رسائی کے لنکس

logo-print

بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی کے لیے مربوط کوششوں پر زور


فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق کانفرنس میں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائیوں سے حاصل ہونے والے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بحث ہوئی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں جمعہ کو راولپنڈی میں ہونے والے کور کمانڈرز اجلاس میں ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے علاوہ شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور شمالی وزیرستان سے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں کی واپسی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق کانفرنس میں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائیوں سے حاصل ہونے والے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بحث ہوئی۔

جنرل راحیل شریف نے اس بات پر زور دیا کہ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے گھروں کو باعزت واپسی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مربوط کوششیں کی جائیں۔

فوج نے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک 1200 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اس کارروائی سے چھ لاکھ سے زائد افراد شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر قیام پذیر ہیں۔

اکتوبر میں ان اطلاعات کے بعد کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان سے شدت پسند فرار ہو کر خیبر ایجنسی میں پناہ لے رہے ہیں، فوج نے یہاں بھی خیبر ون کے نام سے کارروائی شروع کی۔

قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی طرف سے بھی یہ مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ ان کی اپنے گھروں کو واپسی جلد شروع کی جائے۔

تاہم حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ عمل کسی طور بھی جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا اور ان کے بقول سلامتی کی صورتحال کو یقینی بنانے اور علاقے میں بحالی و تعمیرنو کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ہی لوگوں کی واپسی شروع ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG