رسائی کے لنکس

logo-print

توہین عدالت: وزیراعظم گیلانی کو تحریری بیان جمع کروانے کا حکم


پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اپنا تحریری بیان 19 مارچ تک جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر کہا کہ اگر وزیرِ اعظم تحریری بیان جمع نہیں کرواتے تو اُن کو 21 مارچ کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلم بند کروانا ہو گا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے اس مقدمے کی اہم گواہ دفاع اور کابینہ کی سیکرٹری نرگس سیٹھی پر جرح بھی مکمل کی۔

نرگس سیٹھی نے بدھ کو عدالت عظمیٰ کے رو برو پیش ہو کر بتایا تھا کہ وہ جتنا عرصہ وزیرِ اعظم کی پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائض رہیں مسٹر گیلانی کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے سے متعلق وزارتِ قانون کی طرف سے کوئی سمری موصول نہیں ہوئی۔

تاہم اُنھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزارتِ قانون نے 21 مئی اور 23 ستمبر 2010ء کو مسٹر گیلانی کو سمریاں ارسال کی تھی جن میں اُس وقت کے وزیرِ قانون بابر اعوان اور سیکرٹری پیر مسعود چشتی نے بتایا تھا کہ سوئیٹزر لینڈ میں مقدمات دوبارہ کھلوانے کے لیے وہاں کے حکام کو خط لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ مقدمات واپس لیے جا چکے ہیں۔

توہین عدالت کے مقدمے میں وزیرِ اعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے بدھ کو نرگس سیٹھی پر جرح کی تھی، لیکن اس موقع پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں اُن کے اکثر سوالات کو ’’غیر متعلقہ‘‘ قرار دیا تھا۔

مقدمے کی آئندہ سماعت 21 مارچ کو ہو گی۔

XS
SM
MD
LG