رسائی کے لنکس

مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کا مقدمہ، 20 ملزمان بری


شہزاد مسیح اور شمع [فائل فوٹو]

پاکستان کی ایک عدالت نے چار سال قبل ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے الزام کا سامنا کرنے والے 20 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

نومبر 2014ء میں ضلع قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں مشتعل ہجوم نے شہزاد مسیح اور ان کی اہلیہ شمع کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کرنے پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اینٹوں کے بھٹے میں جلتی ہوئی آگ میں پھینک دیا تھا۔

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ہفتہ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے ان 20 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا جن کے خلاف تھانہ کوٹ رادھا کشن میں مقدمہ درج تھا۔

اس مقدمے میں عدالت پانچ ملزمان کو سزائے موت جب کہ دس ملزمان کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں دی چکی ہے جب کہ 93 دیگر ملزمان کو 2016ء میں بری کیا جا چکا ہے۔

یہ مسیحی جوڑا اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتے تھے اور جب ان پر قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا تو قرب و جوار کے تین دیہاتوں کی مساجد میں اعلان کر کے لوگوں کو اس بھٹے پر پہنچنے کا کہا تھا۔

تقریباً ایک ہزار کے لگ بھگ مشتعل افراد کا ہجوم وہاں پہنچا اور اس جوڑے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انھیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا۔

یہ خبر منظرعام پر آتے ہی نہ صرف مقامی بین الاقوامی بین الاقوامی سطح پر ہجوم کی طرف سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی شدید مذمت دیکھنے میں آئی جب کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بھی اس واقعے کا از خود نوٹس لیا۔

پاکستان میں اکثر ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل افراد کی طرف سے ملزمان کو قانون کی گرفت میں پہنچنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG