رسائی کے لنکس

logo-print

الطاف حسین کے خلاف غیر ملکی اخبارات میں اشتہار دینے کی اجازت


ڈاکٹر عمران فاروق (فائل فوٹو)

سماعت کے دوران ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملوث تین اشتہاری ملزمان کو پاکستان لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمۂ قتل میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف بین الاقوامی اخبارات میں اشتہار شائع کرانے کی اجازت دے دی ہے۔

وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) نے بدھ کو اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں اس بارے میں رپورٹ جج کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جلد ہی یہ اشتہار برطانیہ اور امریکہ کے اخبارات میں شائع کر دیا جائے گا جن میں الطاف حسین کو عدالت میں پیش ہونے سے متعلق مطلع کیا جائے گا۔

جج نے وکیلِ استغاثہ کو ہدایت کی کہ اشتہار میں الطاف حسین کی لندن میں واقع رہائش گاہ کا پتہ بھی درج کیا جائے اور مقدمے کا حتمی چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملوث تین اشتہاری ملزمان کو پاکستان لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان افتخار حسین، محمد انور اور کاشف خان کامران کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ پاکستان کی وزارتِ داخلہ سے منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان محسن علی اور معظم علی پر چالان مکمل نہ ہونے کی وجہ سے فردِ جرم عائد نہ کی جا سکی۔

عدالت نے سماعت 24 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے ریمانڈ میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی۔

ستمبر 2010ء میں ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں ان کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا اور ایف آئی اے نے 2015ء میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے بعض دیگر رہنماؤں کے خلاف اس قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

قتل کا مقدمہ اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن کئی برسوں سے جاری سماعت کے باوجود اب تک کیس کا مکمل چالان ہی پیش نہیں کیا جاسکا جبکہ اب تک ملزمان پر فردِ جرم بھی عائد نہیں کی جاسکی ہے۔

الطاف حسین لندن میں مقیم ہیں اور وہ اس مقدمۂ قتل کی پاکستان میں ہونے والی سماعتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG