رسائی کے لنکس

logo-print

لال مسجد کیس: پرویز مشرف کی درخواستِ ضمانت منظور


پاکستان کے سابق فوجی صدر کی وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل بیرون ملک جانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

پاکستان میں ایک عدالت نے اسلام آباد کی لال مسجد کے نائب خطیب کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کی جولائی 2007ء میں ہوئے فوجی آپریشن میں ہلاکت سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے ایڈشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج واجد علی نے سابق صدر کی طرف سے دائر کی گئی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر اپنا فیصلہ گزشتہ ہفتے محفوظ کر لیا تھا، جس کا اعلان پیر کو کیا گیا۔

عدالت نے پرویز مشرف کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنھیں ایک، ایک لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی، تاہم اوقات کار ختم ہو جانے کی وجہ سے یہ عمل پیر کو مکمل نہیں کیا جا سکا۔

پرویز مشرف کی وکیل افشاں عادل نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مچلکے منگل کو عدالت میں جمع کروا دیے جائیں گے، اور دفتری کارروائی کے بعد اُن کے موکل کی گرفتاری ختم ہو جائے گی۔

’’ہمیں عدالت سے یہی اُمید تھی کہ میرٹ پر فیصلہ ہوگا، عدالت نے بھرپور میرٹ پر فیصلہ کیا۔‘‘

غازی عبدالرشید کے بیٹے اور اس کیس کے درخواست گزار ہارون الرشید نے سابق صدر کی درخواستِ ضمانت کی منظوری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

’’ہم نے چھ سال طویل قانونی جد و جہد کی اور یہ جو فیصلہ آیا ہے مجھے اس پر بہت افسوس ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ سب یک طرفہ کارروائی ہو رہی ہے، ہمارے شواہد نہیں دیکھے جا رہے ہیں۔‘‘

ہارون الرشید کے وکیل وجیح اللہ خان نے کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں افسوس ہے کہ فیصلہ قانون اور انصاف کے برعکس صادر کیا گیا۔ ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔‘‘

لال مسجد میں مسلح افراد کی موجودگی اور گشیدگی کے دوران نیم فوجی سکیورٹی فورس پاکستان رینجرز کے اہلکار کی ہلاکت کے بعد کی گئی فوجی کارروائی میں کمانڈوز سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہارون الرشید نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے پرویز مشرف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی کہ فوجی کارروائی کا حکم سابق صدر نے دیا تھا۔ البتہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے ابتدائی تفتیش میں پرویز مشرف کو بری الزماں قرار دیا ہے۔

اس کیس میں درخواستِ ضمانت کی منظوری پر عمل درآمد کے بعد سابق صدر کی اپنی رہائش گاہ میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری قید ختم ہو جائے گی، تاہم اُن کے بیرون ملک سفر پر پابندی بظاہر برقرار رہے گی۔

سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو اور قوم پرست بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی ہلاکت کے علاوہ 2007ء میں لگائی گئی ایمرجنسی کے بعد ججوں کی مبینہ نظر بندی کے مقدمات میں پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواستیں پہلے ہی منظور کی جا چکی ہیں۔

افشاں عادل کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل پاکستان سے باہر جانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

’’مشکل مرحلہ ہمارے (سابق) صدر نے فیس کر لیا، تو اب بھاگنے والی کون سی بات ہے۔‘‘

پارلیمان میں مواخذے کے امکانات کی موجودگی میں پرویز مشرف نے اگست 2008ء میں عہدہِ صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور 2009ء میں اُنھوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی جس کے دوران ان کا بیشر وقت لندن اور دبئی میں گزرا۔

مئی 2013ء کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے وہ مارچ میں وطن واپس پہنچے جہاں اُنھیں مختلف مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا جب کہ الیکشن کمیشن نے اُن کے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کر دیے۔
XS
SM
MD
LG