رسائی کے لنکس

خادم رضوی کے وارنٹ گرفتاری جاری، چار اپریل کو پیش کرنے کا حکم


خادم حسین رضوی (فائل فوٹو)

عدالت نے پولیس کی طرف سے چالان پیش نہ کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور پولیس کو چار اپریل کو چالان اور ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

پاکستان کی ایک عدالت نے مذہبی و سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی اور ایک مرکزی رہنما پیر افضل قادری سمیت بعض سرکردہ کارکنان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس میں طلبی کے باجود مسلسل غیر حاضر رہنے پر ان افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

عدالت نے پولیس کی طرف سے چالان پیش نہ کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور پولیس کو چار اپریل کو چالان اور ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

تحریکِ لبیک نے پارلیمان کی رکنیت کے امیدواروں کے حلف نامے میں ختمِ نبوت سے متعلق الفاظ کی تبدیلی کے خلاف فیض آباد کے مقام پر گزشتہ سال نومبر میں 20 روز تک دھرنا دیے رکھا تھا جس کی وجہ سے جڑواں شہروں کے باسیوں کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

دھرنے کے دوران خادم حسین رضوی حکومت اور عدلیہ پر کڑی تنقید اور ان کےخلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرتے رہے تھے۔

بعد ازاں جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انتظامیہ نے دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس آپریشن کیا تھا تو اس دوران ہونے والے تصادم میں متعدد افراد ہلاک اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن میں مظاہرین کی طرف سے مزاحمت دیکھنے میں آئی تھی
دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن میں مظاہرین کی طرف سے مزاحمت دیکھنے میں آئی تھی

بعد ازاں یہ دھرنا فوج کی ثالثی میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے نتیجے میں ختم ہوا تھا۔

اس معاملے کا سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لے رکھا ہے اور دو رکنی بینچ اس کی سماعت کر رہا ہے۔

پیر کو ہونے والی سماعت میں عدالتِ عظمیٰ کے بینچ نے فوج کے انٹیلی جنس ادارے 'آئی ایس آئی' کی طرف سے دھرنے سے متعلق جمع کرائی جانے والی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے نامکمل قرار دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ رپورٹ ملک کی ایک اہم ایجنسی کی طرف سے تیار کی گئی ہے لیکن ایک صحافی بھی اس رپورٹ میں دی گئی تفصیلات سے زیادہ معلومات فراہم کر سکتا تھا۔

انھوں نے خادم رضوی کے پیشے سے متعلق استفسار کیا تو بینچ کے سامنے پیش ہونے والے وزارتِ دفاع کے نمائندے کرنل فلک ناز نے وضاحت کی کہ وہ ایک مذہبی مبلغ ہیں۔

جسٹس عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا یہ پیشہ ہے؟ تو کرنل ناز نے جواب دیا کہ خادم رضوی کی گزر اوقات چندے پر ہوتی ہے۔

بینچ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں ان سوالوں کے جواب نہیں دیے گئے جو عدالت نے پوچھے تھے۔

بعد ازاں بینچ نے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG