رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ نے ایل پی جی معاہدہ کالعدم قرار دے دیا


عدالتِ عظمیٰ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایت کی ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور جامشورو جوائنٹ وینچر لیمٹڈ کے مابین معاہدے پر تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے عرصہ میں پیش کی جائے۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے مائع پیٹرولیم گیس کے حصول سے متعلق ایک معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

وزیر برائے دفاع اور پانی و بجلی خواجہ آصف نے 2011ء میں آزاد حیثیت میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کوٹا سے متعلق درخواست جمع کروائی تھی، اور عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے کا فیصلہ بدھ کو سنایا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے میں کہا گیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور جامشورو جوائنٹ وینچر لیمٹڈ (جے جے وی ایل) کے مابین 2003ء میں ہوئے معاہدے کا عمل ’’انتہائی غیر شفاف‘‘ تھا۔

خواجہ آصف نے کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رائلٹی کے تعین کے لیے اصل معاہدے میں جو طریقہ کار وضع کیا گیا تھا اُس میں بعد ازاں تبدیلی کرکے ایسی شقیں شامل کی گئیں جن کا مقصد صرف اور صرف اس معاہدے کو دوام بخشنا تھا۔

’’بہت سے لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا - سوئی سدرن کی اس وقت کی منیجمنٹ، اس وقت کی وزارتِ پیٹرولیم، اور وہ تمام لوگ جنھوں نے اس غیر قانونی معاہدے کو آگے بڑھایا اور بعد میں اس میں تبدیلیاں بھی کیں جس سے جے جے وی ایل کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا کیوں کہ بڑے با اثر، بڑے نامی گرامی لوگ اس کمپنی سے مستفید ہوتے رہے اور اب تک ہو رہے ہیں۔‘‘

خواجہ آصف کے مطابق اس معاہدے سے سب سے زیادہ فائدہ ملک کی ایک بڑی کاروباری شخصیت اقبال زیڈ احمد کو پہنچا، مگر اس سے مستفید ہونے والے دیگر لوگوں میں سیاست دان، ریٹائرڈ فوجی افسران اور بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور جامشورو جوائنٹ وینچر لیمٹڈ کے مابین معاہدے کو اس کے اجراء کی تاریخ یعنی 19 مئی 2003ء سے کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ نجی کمپنی کو قومی خزانے اور دیگر متاثرین کو پہنچنے والے مالی نقصانات کی تلافی کرنے کا پابند بنایا جائے۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اس معاملے کی تحقیقات کرکے مجرمانہ غفلت، بدعنوانی اور دیگر جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کی نشاندہی کرے۔ ایف آئی اے کو آئندہ 30 روز میں اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ بحیثیت درخواست گزار اور کابینہ کے رکن بھی اس معاملے پر نظر رکھیں گے تاکہ ’’جو لوگ کرپشن کی اس گنگا میں نہائے ہیں وہ اپنے منتقی انجام تک پہنچیں‘‘۔
XS
SM
MD
LG