رسائی کے لنکس

logo-print

'توہین مذہب کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے'


پاکستان کی ایک عدالت نے پارلیمان کو تجویز دی ہے کہ ملک میں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایسی قانون سازی کی جائے جس میں توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی کڑی سزا دی جا سکے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کو روکے جانے سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت پر اپنے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا کہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے ناقدین اسے ختم کرنے کے مطالبات کرتے ہیں جب کہ بہتر یہ ہو گا کہ اس قانون کو ختم کرنے کی بجائے اس کے غلط استعمال کو روکا جائے۔

اپنے فیصلے میں جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ لوگ ذاتی عناد کی وجہ سے مخالفین پر توہین مذہب کا الزام لگا کر ان کی اور ان کے خاندان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں جب کہ جھوٹا الزام لگانے والے پر جو قانون لاگو ہوتا اس کے تحت سزا انتہائی کم ہے۔

ملک میں رائج قانون کے مطابق توہین مذہب کی سزا موت ہے جب کہ کسی پر جھوٹا الزام لگانے کی سزا چھ ماہ قید یا ایک ہزار روپے جرمانہ ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون میں ترمیم کر کے جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے بھی اتنی ہی سخت سزا رکھی جائے جتنی کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کے لیے ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے اور اس کے غلط استعمال کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں تازہ ترین واقعہ جس نے بین الاقوامی برادری کی توجہ ایک بار پھر اس جانب مبذول کروائی، رواں سال اپریل میں مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں پیش آیا تھا۔

اس یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین مذہب کے الزام میں ایک نوجوان طالب علم مشال خان کو تشدد اور گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا لیکن بعد ازاں تحقیقات سے پتا چلا کہ مقتول پر لگایا جانے والا الزام غلط تھا۔

ایسے ہی واقعات کی بنا پر آزاد خیال حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون میں ترمیم کے مطالبات کرتی آئی ہیں لیکن اس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رکن سینیٹر ستارہ ایاز نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس بارے میں پہلے بھی کام کیا جا رہا تھا اور اب عدالت نے بھی یہ تجویز دی ہے لیکن ان کے بقول یہ معاملہ انتہائی احتیاط کا متقاضی بھی ہے۔

"یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس پر قانون سازی کو انتہائی احتیاط سے کرنا ہو گا اور صرف قانون سازی ہی کافی نہیں ہمیں اس کے جڑ تک پہنچنا ہو گا اس کے بنیادی اسباب پر توجہ دینا ہوگی۔ حالات و واقعات کو دیکھنا ہوگا اور یہ بھی کہ قانون پر عملدرآمد کس طرح سے ہو گا۔"

عدالت عالیہ نے رواں سال مارچ میں اس پر مختصر فیصلہ سنایا تھا اور تفصیلی فیصلہ جمعہ کو جاری کیا گیا۔

116 صفحات پر مشتمل فیصلے میں متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد کو روکنے کے لیے مناسب اقدام کریں تاکہ ایسا مواد پاکستان میں صارفین نہ دیکھ سکیں۔

XS
SM
MD
LG