رسائی کے لنکس

شکیل آفریدی کے مقدمے کا فیصلہ عدالت کر ے گی


شکیل آفریدی (فائل فوٹو)

پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں رہا کیے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

یہ بات وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف زاہد حامد نے پارلیمان کے ایوان بالا کے اجلاس میں جمعیت العلمائے اسلام کے سینیٹر مولانا حافظ حمد اللہ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

طاہر مشہدی نے کہا کہ وہ وزیر قانون کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کے بقول چاہے شکیل آفریدی ہو، چاہے کوئی اور ان کے خلاف بغیر کسی امتیاز کے قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے۔

شکیل آفریدی کو 2011ء میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے روپوش راہنما اسامہ بن لادن کی امریکی اسپشیل فورسز کے آپریشن میں ہلاکت کے چند روز بعد سامنے آنے والی ان اطلاعات پر گرفتار کیا گیا تھا کہ انھوں نے بن لادن کی نشاندہی کے لیے امریکہ کی خفیہ ایجنسی ’’سی آئی اے‘‘ کی معاونت کی اور اس کے لیے انہوں نے ایک جعلی ویکسین مہم شروع کی تھی۔

تاہم بعد ازاں شکیل آفریدی کو ایک شدت پسند گروپ سے تعلق رکھنے کے جرم میں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی جس میں پھر دس سال کی تخفیف کر دی گئی تھی۔ ڈاکٹر آفریدی نے باقی سزا کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

امریکہ کے بعض عہدیداروں کی طرف سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ شکیل آفریدی نے ملک کے قانون اور مفاد کے خلاف کام کیا اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت بار ہا امریکی حکومت کو آگاہ کر چکی ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی ایک جرم کے مرتکب ہوئے اور اس بنا پر انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

امریکہ ڈاکٹر آفریدی کو ایک ہیرو تصور کرتا ہے جنہوں نے دنیا کے مطلوب ترین شخص سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں معاونت کر کے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔

XS
SM
MD
LG