رسائی کے لنکس

logo-print

وکلاء اورذیلی عدالتوں کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار


وکلاء اورذیلی عدالتوں کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار

پاکستان بار کونسل کی اپیل پر پیر کے روز وکلا ء نے ملک میں بڑے پیمانے پر عدالتوں کا بائیکاٹ کیااو ر احتجاجی ریلیاں نکالیں ۔ وکلا ء کا مطالبہ ہے کہ لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زوار شیخ کو تبدیل کیا جائے کیوں کہ وکلاء تنظیمیں اُن کے تبادلے کی قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔

اس بارے میں گذشتہ کئی روز سے جاری احتجاج کے دوران وکلاء کی پولیس کے ساتھ متعدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں وکلاء کے علاوہ پولیس کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ جج صاحبان لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی قیادت میں مُصر ہیں کہ وکلاء کے مطالبے پر کسی جج کا تبادلہ نہیں ہو سکتا۔

اس کشیدگی کی وجہ سے خاص طور پر پنجاب میں عدالتی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں ا ور ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت لاکھوں مقدمات مزید تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت وکلاء کو غیر ضروری طور پر تشدد کو نشانہ بنارہی ہے جب کہ پنجاب حکومت وکلاء اورذیلی عدالتوں کے درمیان اس کشیدگی کا ذمہ داروزیر قانون بابراعوان کو ٹھہراتی ہے۔

وکلاء کے خلاف پولیس کی کارروائی کے بارے میں حکومت پنجاب کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ ”حکومت کو تو اپنا فرض پور ا کرنا تھا جب چیف جسٹس کے کمرے پہ حملہ کیاجائے گا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جائے گی تو انتظامیہ اپنا کردارادا کرے گی“۔

ُصوبہ پنجاب میں وکلاء اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی ایسے وقت ہورہی ہے جب عدالت عظمیٰ میں انتہائی اہم نوعیت کے مقدمات زیرسماعت ہیں ۔

XS
SM
MD
LG