رسائی کے لنکس

logo-print

آئی سی سی بھارتی ٹیم کے فوجی ٹوپی پہننے کا نوٹس لے، احسان مانی


بھارٹی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی فوجی انداز کی ٹوپی پہنے ہوئے۔ فائل فوٹو

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ اُنہوں نے بھارتی کرکٹ ٹیم کی طرف سے فوجی انداز کی ٹوپیاں پہن کر بین الاقوامی میچ کھیلنے کا معاملہ شدت کے ساتھ انٹرنیشل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ اُٹھایا ہے۔

پی سی بی کا مؤقف ہے کہ فوجی انداز کی ٹوپیاں پہن کر بھارتی کرکٹ ٹیم نے کھیل میں سیاست کو ملوث کیا ہے اور کرکٹ کے لباس کے سلسلے میں آئی سی سی کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

احسان مانی نے کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اس مؤقف کے بارے میں آئی سی سی میں کوئی ابہام موجود نہیں ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہئیے۔ احسان مانی نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ ٹیم نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم نے یہ فوجی انداز کی ٹوپی آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ کےدوران پہنی۔ میچ شروع ہونے سے پہلے یہ ٹوپی بھارتی کھلاڑی مہندر سنگھ دھونی نے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں میں تقسیم کی جو خودبھارتی فوج کے اعزازی لیفٹننٹ کرنل ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ بھارٹی کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی آئی سی سی کو اپنے اس اقدام سے مطلع کر دیا تھا اور آئی سی سی نے تصدیق کی تھی کہ اُس نے خیراتی فنڈریزنگ کے ایک قدم کے طور پر اس کی اجازت دے دی تھی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرف سے یہ قدم پلوامہ حملے کے پس منظر میں اُٹھایا گیا ہے۔ مہندر سنگھ دھونی نے بھی یہ وضاحت کی تھی کہ فوجی انداز کی یہ ٹوپی پہننے کا مقصد پوری بھارتی قوم کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ پلوامہ حملے میں جانیں گنوانے والے فوجیوں کے اہل خانہ کی بہبود کیلئے قومی دفاعی فنڈ میں بڑھ چڑھ کر عطیات دیں۔ بھارتی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے بھی اس میچ کی فیس اس فنڈ میں عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے آئی سی سی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سخت کارروائی کرے کیونکہ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب کھلاڑیوں کو لباس سے متعلق ضابطے کی خلاف ورزی پر سزائیں دی گئیں۔

انگلستان کے آل راؤنڈر معین علی نے 2014 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلنے کے دوران کلائی پر ایک پٹی پہنی جس پر ’’غازا کو بچاؤ‘‘ اور ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ کے الفاظ درج تھے۔ انگلستان کی کرکٹ ٹیم نے معین علی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کا یہ اقدام سیاسی ہونے کے بجائے انسانی ہمدردی کے سلسلے میں تھا۔ تاہم میچ ریفری ڈیوڈ بون نے اُنہیں بتایا کہ وہ بین الاقوامی میچ کے دوران مخصوص لباس پہننے سے متعلق آئی سی سی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور یوں اُنہیں سزا دیتے ہوئے اُن پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

اسی طرح جنوبی افریقہ کے لیگ سپنر عمران طاہر کو بھی آئی سی سی نے اُس وقت سخت وارننگ جاری کی جب اُنہوں نے ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا کو شکست دینے کے بعد فتح کی خوشی مناتے ہوئے اپنی جرسی اتار کر نیچے پہنی ہوئی ٹی شرٹ دکھائی جس پر ماضی کے معروف پاکستانی پاپ سنگر اور بعد میں مذہبی شخصیت بن جانے والے جنید جمشید کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ جنید جمشید بعد میں ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

احسان مانی نے ان دونوں مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی نے ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا تھا اور وہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے خلاف بھی ایسے ہی اقدام کی توقع رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ پلوانہ حملے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی پر زور دیا تھا کہ پاکستان پر مکمل پابندی عائدکی جائے۔ تاہم آئی سی سی نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ایسا اقدام آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں آتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG