رسائی کے لنکس

کرکٹ: قومی ٹیم کی مسلسل چھٹی شکست، 'یہ صرف علامات ہیں'


فائل فوٹو

سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین کہتے ہیں کہ قومی ٹیم کی شکست کا یہ تازہ سلسلہ دراصل خرابی کی علامات ہیں جب کہ توجہ بنیادی وجوہات پر دینے کی ضرورت ہے۔

چیمپیئنز ٹرافی کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے جہاں پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز میں شکست فاش کے بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز بھی اس کی ہزیمت سے ہوا۔

گزشتہ سال ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بہتر رہی تھی اور ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے اچھا شگون قرار دیا جا رہا تھا۔

2017ء میں قومی ٹیم نے 10 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جن میں سے آٹھ میں اسے کامیابی ملی۔ اٹھارہ ون ڈے میچوں میں سے 12 اس کے نام رہے جب کہ سری لنکا کو اس نے پانچ۔صفر سے سیریز میں چاروں شانے چت کیا۔

اتار چڑھاؤ کے باوجود کامیابیوں کے سفر پر گامزن قومی ٹیم سے نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے مقابلے میں بھی بہتر کارکردگی کی توقع کرتے ہوئے مبصرین یہ کہہ رہے تھے کہ یہ سیریز پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہو گی۔

رواں سیریز میں میزبان ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو کھیل کے ہر شعبے میں ناکامی سے دوچار کیا۔ ایک طرف پاکستان کی اوپننگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ خاصی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتی نظر آئی تو وہیں بالرز بھی قابل ذکر کمال دکھانے میں ابھی تک ناکام ہیں۔

قومی ٹیم کی اس کارکردگی پر ناقدین کی طرف سے کھلاڑیوں کے انتخاب سمیت ملک میں کرکٹ سے متعلق موثر اور دور رس حکمت عملی کے نہ ہونے پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین کہتے ہیں کہ قومی ٹیم کی شکست کا یہ تازہ سلسلہ دراصل خرابی کی علامات ہیں جب کہ توجہ بنیادی وجوہات پر دینے کی ضرورت ہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو کھلاڑیوں اور نہ ہی کپتان سے متعلق کوئی بات کریں گے کیونکہ ملک میں کھیل کی بنیاد کو ہی درست نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے جلال الدین کے بقول اوسط درجے کے کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔

"آپ کے کوالٹی پلیئرز ڈویلیپ نہیں ہو رہے، مستقل مزاجی نہیں ہے، آج کل کی ماڈرن کرکٹ کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ خاص طور پر ڈویلیپمنٹ کے حوالے سے گراس روٹ اور فرسٹ کلاس لیول تک کی ڈویلپمنٹ میں ہم دوسری تیموں کے مقابلے میں صفر ہیں۔ تو ہم ایک ایوریج کھلاڑی تیار کرتے ہیں تو وہ بیچارا کبھی (پرفارم) کر دیتا ہے، کبھی نہیں کرتا۔"

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر کے نزدیک کامیابیوں پر داد و تحسین سمیٹنے والے کوچ مکی آرتھر اور چیف سلیکٹر انضام الحق کو اتنی خراب کارکردگی پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کرکٹ بورڈ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرکٹ کے اس انتظامی ادارے کے سربراہ سمیت تمام فیصلہ ساز عہدوں پر ایسی شخصیات براجمان ہیں جنہوں نے کبھی کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔

"وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صاحب کو چاہیے کہ کرکٹ بورڈ کو کرکٹرز کے حوالے کر دیں۔ چیئرمین، سی ای او، گورننگ بورڈ اور ریجن کے صدور تو اگر کرکٹ ٹھیک کرنی ہے تو چاروں عہدے کرکٹرز کے حوالے کر دیں۔ اگر شاہد خاقان عباسی صاحب سمجھتے ہیں کہ یہ مشکل ہے تو آپ چیئرمین اور سی ای او کے عہدے سیاسی رکھ لیں باقی پر عظیم کھلاڑیوں کو رکھیں۔ اس طرح کے قوانین ہمیں بنا دیں۔"

جلال الدین کا بھی کہنا تھا کہ وقتی اور مصنوعی تبدیلیوں سے پاکستانی کرکٹ وقتی کامیابیاں تو سمیٹ سکتی ہے لیکن اس کی کارکردگی میں مستقل مزاجی اسی صورت ممکن ہے جب اس کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے گا۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ حالیہ دورے میں ٹیم کی کارکردگی خراب رہی ہے اور ان کے بقول دورے کے اختتام پر اس کا بغور جائزہ لے کر اقدامات کیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG