رسائی کے لنکس

پاکستان کرکٹ ٹیم میں کپتان کی تبدیلی ، تنقید کی راہیں پھر کھل گئیں


پاکستان کرکٹ ٹیم میں کپتان کی تبدیلی ، تنقید کی راہیں پھر کھل گئیں

پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈرشاہد خان آفریدی کو ایک روزہ کرکٹ کی قیادت سے ہٹا کر ان کی جگہ مصباح الحق کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔ ماہرین کے مطابق شاید خان آفریدی نے مشکل حالات میں پاکستان کرکٹ کو سہارا دیااور جب ٹیم فتح کی راہ پر گامزن ہوئی تو قیادت مصباح کو سونپنا کسی صورت بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پی سی بی کی غیر مستقل پالیسی بھی واضح ہو گئی ہے اور ٹیم میں گروہ بندی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔

شاید آفریدی کی کارکردگی

شاید خان آفریدی کو یہ ذمہ داری دو ہزار نو میں اس وقت سونپی گئی جب ٹیم جیت کا گر ہی بھول گئی تھی ۔ اگر چہ ابتدائی سیزیزمیں جنوبی افریقہ ، آسٹریلیا اور برطانیہ سے کھیلی جانے والی سیریز میں شاید آفریدی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس دوران گرین شرٹس نے کھویا ہوا فائٹنگ اسپرٹ دوبارہ حاصل کر لیا اور یہ حریف ٹیموں کے لئے تر نوالہ ہر گزثابت نہیں ہوئی ۔

عالمی کپ سے پہلے پاکستان نے نیوزی لینڈ کا دورہ کیا اور کیویز کوانہی کی سرزمین پر پانچ ایک روزہ سیریز میں شکست دے کر فتوحات کا آغاز کیا ۔ شاید خان آفریدی نے عالمی کپ میں جس طرح ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی دلوائی وہ شاید کسی اور پاکستانی کھلاڑی کے بس کی بات نہ تھی ۔ان کی قیادت میں ویسٹ انڈیز سے حالیہ پانچ ایک روزہ سیریز بھی پاکستان کے نام رہی ۔ ان کی زیر قیادت 34 میچوں میں پاکستان کو 18 میں فتح اور 15 میں شکست ہوئی ۔

دورہ ویسٹ انڈیزکے دوران شاید آفرید ی اور کوچ وقار یونس کے درمیان بہت سے معاملات پر میڈیا میں اختلافات سامنے آئے تاہم شاید آفریدی نے وطن واپسی پر میڈیا کوصرف اتنا ہی بتایا کہ" ٹیم میں کوئی بڑا ایشو نہیں لیکن ہر شخص کو صرف اپنا کام کرنا چاہیے، دوسروں کے امور پر مداخلت نہیں ہونی چاہیے ، میں بطور کپتان اپنے کام کا جوابدہ ہوں اور چیئرمین پی سی بی سے بیٹھ کر تمام غور طلب مسائل حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی"

مصباح الحق کی کارکردگی

مصباح الحق جنہیں عالمی کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف سیمی فائنل میں غیر ذمہ دارانہ کارکردگی پر پاکستان میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ انہیں دورہ ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والے ایک روزہ اسکواڈ سے باہر کیا جائے ،انہیں ایک روزہ ٹیم کی قیادت سونپنا مبصرین کی سمجھ سے بالاتر ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ ٹیم میں کوئی بھی ایسا باصلاحیت کھلاڑی نہیں ہے جو قیادت کے فرائض انجام دے سکے لہذا اس صورتحال میں صرف مصباح ہی کو ان کا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے مگر 37 سالہ مصباح کی اب بہت کم کرکٹ باقی بچی ہے لہذا وہ کپتانی کا خلا زیادہ عرصے تک پر نہیں کر سکتے ۔

مصباح الحق کو اکتوبر دو ہزار دس میں ٹیسٹ کرکٹ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن اس تمام عرصے کے دوران وہ انتہائی محتاط اور دفاعی کپتان نظر آئے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ٹیسٹ میچز میں جیتنے کا موقع گنوا دیا گیا ۔ مصباح کی جیت سے زیادہ ڈرا ترجیح رہی اور یہی وجہ ہے کہ ان کی زیر قیادت پانچ میچوں میں سے تین بغیر نتیجے کے ختم ہوئے ، ایک میں فتح اور ایک میں شکست ہوئی ۔

مصباح کی قیادت میں ٹیم کیا کارکردگی دکھائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم اس وقت کرکٹ شائقین سخت مشتعل ہیں جبکہ پی سی بی کی جانب سے بھی آفریدی کو کپتانی سے ہٹانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا رہا جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے ۔

پی سی بی: غیر مستقبل پالیسی پر گامزن

کرکٹ بورڈ سے ناراضی کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے مذکورہ فیصلے سے اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی کہ یہ ادارہ تاحال غیر مستقبل پالیسی پر ہی گامزن ہے ۔ گزشتہ دو سالوں میں شعیب ملک ، محمد یوسف ، یونس خان ، شاید آفریدی اور اب مصباح الحق کو ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی تقدیر بدلنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی کی زیادہ توجہ کرکٹ کی بہتری کیلئے نہیں بلکہ من پسند لوگوں کے انتخاب پر مرکوز رہی ہے ۔

ماہرین کے مطابق یونس خان کو دورہ آئر لینڈ کے لئے ایک بار پھر ٹیم کا حصہ بنانا بھی بورڈ کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بڑی عمر کے کھلاڑیوں کی جگہ نوجوانوں کو موقع دیا جائے گا ۔

گروہ بندی کا خدشہ

ناقدین کے مطابق اگر یونس خان کو واپس لیا جا سکتا ہے تو پھر رزاق کا کیا قصور ہے ؟ جسے ورلڈ کپ میں خاطرخواہ کارکردگی دکھانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ۔ پی سی بی کے اس اچانک فیصلے سے ایک بار پھر ٹیم میں گروہ بندی کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے جس کا شاید آفریدی کی قیادت میں بڑے حد تک خاتمہ ہو گیا تھا ۔

XS
SM
MD
LG