رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی جاری


کراچی کے علاقے لیاری میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے چوتھے روز پیر کو بھی پولیس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور علاقہ سارا دن گولیوں اور دستی بموں کی گھن گرج سے گونجتا رہا۔

لیاری میں جرائم پیشہ افراد کی جانب سے بھاری اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے پولیس تاحال کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔

جمعے سے شروع ہونے والے اس آپریشن میں پولیس اہلکاروں سمیت اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ درجنوں افراد زخمی ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

سندھ پولیس کے سربراہ مشتاق شاہ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں بتایا ہے کہ اس آپریشن کے دوران کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں جن کی تفصیل آپریشن کے اختتام پر منظر عام پر لائی جائے گی۔

اُدھر حکمران پیپلز پارٹی کے لیاری سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ لیاری کا مسئلہ کراچی کے لئے انتہائی سنجیدہ اور پچیدہ ہو چکا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ لیاری کی آبادی لگ بھگ 18 لاکھ ہے اور جرائم پیشہ عناصر علاقے کی صرف دو یا تین یونین کونسلوں تک محدود ہیں۔

نبیل گبول کے بقول اگر جدید ہتھیاروں سے لیس ان منظم جرائم پیشہ افراد کو ابھی نہ روکا گیا تو آگے چل کر ان پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

”میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے حالات میں ضروری ہے کہ جتنی بھی قوتیں ہیں سب مل کے اس آپریشن کی حمایت کریں۔ (اگر ایسا کیا گیا) تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ ضرورنکل آئے گا، لیکن ابھی تک پولیس جو کوشش کر رہی ہے اس کو نقصان بھی بہت ہوا ہے۔ ایسے حالات میں پولیس جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی، ظاہر ہے آخر دم تک لڑے گی۔“

سرکاری نقطہ نظر کے برعکس لیاری میں جو لوگ پولیس کے خلاف بر سر پیکار ہیں ان کے ایک رہنما اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے قائد ظفر بلوچ کا موقف ہے کہ لیاری کا آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہیں بلکہ اس کی وجہ سیاسی ہے۔

ان کے بقول حکومتی رویے سے نالاں ہو کر جب سے لیاری کے عوام نے سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے بارے میں سوچا ہے یہ آپریشن اس کے جواب میں ہے۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر سید غوث علی شاہ نے لیاری جا کر وہاں ہونے والی ہلاکتوں پر وہاں کے مقامی رہنماؤں اور لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

ادھر آپریشن کی طوالت کے باعث علاقے کے بیشتر مکین گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور انھیں اشیاء خورد و نوش کی قلت کا بھی سامنا ہے جبکہ لیاری کے کم کشیدگی والے علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG