رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: سینیٹ انتخابات 3 کے بجائے 5 مارچ کو ہوں گے


ایوان بالا میں ارکان کی تعداد 104 ہے جن میں سے 52 اپنی رکنیت کی مدت پوری ہونے کےبعد 11 مارچ کو سبکدوش ہو جائیں گے۔

پاکستان کے ایوان بالا "سینیٹ" کے انتخابات کی تاریخ میں رد وبدل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اب یہ انتخابات تین کی بجائے پانچ مارچ کو منعقد ہوں گے۔

اس تبدیلی کی وجہ تو سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی لیکن شائع شدہ اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کو امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت درکار ہے اور اسی لیے دو دن کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سینیٹ کی 52 نشستوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں منعقد ہو گی جس کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمعرات سے جمع کیے جا رہے ہیں اور جمعہ تک کوئی بھی امیدوار کاغذات جمع کروا سکتا ہے۔

کاغذات کی چانچ پڑتال اس ماہ کی 16 اور 17 تاریخ کو ہو گی اور ان میں کسی اعتراض کے خلاف اپیلیں دائر کرنے اور ان پر فیصلوں کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد 25 فروری کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔

کاغذات اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کے علاوہ چاروں صوبوں میں اس کے صوبائی دفاتر میں جمع کروائے جا سکتے ہیں۔

سینیٹ کے انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان خفیہ رائے شماری کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

ایوان بالا میں ارکان کی تعداد 104 ہے جن میں سے 52 اپنی رکنیت کی مدت پوری ہونے کےبعد 11 مارچ کو سبکدوش ہو جائیں گے۔

سینیٹ کے لیے تقریباً سب ہی بڑی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے جب کہ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ ایوان بالا کے لیے اپنے امیدوار میدان میں لا رہی ہے۔

پی ٹی آئی گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں موجود اپنے اراکین کے استعفے دے چکی ہے جو تاحال منظور نہیں ہوئے۔ یہ جماعت صرف خیبر پختوںخواہ سے ہی سینیٹ کے لیے اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے جہاں اس کی حکومت ہے۔

XS
SM
MD
LG