رسائی کے لنکس

logo-print

کیا پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ واقعی ناگزیر ہے؟


فائل فوٹو

پاکستان کے دو ہزار بیس اکیس کے بجٹ کے اعلان کے بعد کی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے دفاعی بجٹ میں گیارہ اعشاریہ نو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کا بجٹ اور دفاعی اخراجات
please wait

No media source currently available

0:00 0:12:54 0:00

اس بارے میں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ بجٹ میں یہ اضافہ دراصل ایسے منصوبوں کی تعمیر کے بارے میں ہے جو سول مسلح فورسز کے استعمال میں آئیں گے جیسا کہ وہ فورٹس جو سرحد پر تعمیر کئے جارہے ہیں یا وہ حفاظتی باڑ جو سرحد کے بعض مقامات پر لگائی جا رہی ہے۔

جنرل امجد شعیب
جنرل امجد شعیب

وہ کہتے ہیں کہ اس سرحدی حفاظتی باڑ پر فرنٹئیر کور تعینات کی جائے گی جو وزارتِ داخلہ کی مسلح فورسز کہلاتی ہیں۔ اس لئے اسے وزارتِ داخلہ کے حساب میں جانا چاہئے تھا مگر چونکہ اس کی تجویز فوج کی طرف سے آئی تھی، اس لئے اسے دفاعی بجٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔

امتیاز عالم ایک سینئر صحافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہر سال جب بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو اس میں ظاہر کئے گئے اخراجات بعد میں بڑھ جاتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ پاکستان کی سرحدوں کی صورتِ حال بھی ہے جہاں کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔

جنرل شعیب بھی کہتے ہیں کہ گذشتہ برس بجٹ میں بعد میں اضافہ اس لئے کرنا پڑا کیونکہ سرحد پر باڑ لگانے کے منصوبے میں توسیع کا فیصلہ بعد میں کیا گیا۔ پہلے یہ باڑ صرف افغانستان کی سرحد کے ساتھ لگائی جا رہی تھی مگر پھر اسے ایران تک بڑھا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سال اس کے اخراجات پہلے ہی بجٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں اور حکومت نے اس کی وضاحت بھی کر دی ہے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں پاکستان کی مسلح افواج کے بزنسز کی سول فیز میں کافی توسیع ہوئی ہے۔ بہت سے ادارے ایسے ہیں جیسا کہ این ڈی ایم اے، نیشنل لاجسٹکل سیل، فرنٹئیر ورکس آرگنائیزیشن وغیرہ۔ مگر یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے فوج کے کیا اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔ اور پاکستان میں نہ تو اکانومسٹ اور نہ ہی سیاستدان اس پوزیشن میں ہیں کہ کوئی حقیقت پسندانہ بات کر سکتے ہوں۔

امتیاز عالم
امتیاز عالم

لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب کہتے ہیں کہ پاکستان میں فوجی فاؤنڈیشن ایسا ادارہ ہے جو فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح کا کام کرتا ہے اور اپنے تمام اخراجات خود برداشت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض سول اداروں میں فوج کا شیئر صرف 43 فیصد ہے اور اگر یہ ادارے اچھی کارکردگی دکھائیں تو 57 فیصد فائدہ سول حکومت ہی کو ہو گا۔

اقتصادی ماہر اور کنسلٹنٹ قیصر بنگالی کا بھی کہنا تھا کہ فوج اب ایسے کمرشل منصوبوں میں الجھ رہی ہے جو اسے زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اب فوجی لانڈری ہے، گوشت کی دوکان ہے جو صرف فوجیوں کیلئے مخصوص نہیں ہے۔ عسکری بینک ہے جس میں سب اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا کام اگر دفاع ہے تو اسے اپنا کام کرنا چاہئے۔ کمرشل منصوبوں میں روڈ ٹرانسپورٹ میں نیشنل لاجسٹک سیل کا غلبہ ہے۔ فرٹیلائیزنگ انڈسٹری میں فوج کا غلبہ ہے اور ہاؤسنگ سیکٹر میں بھی قریب قریب ایسا ہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائیرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ فوج کے بعض صنعتی منصوبے ایسے ہیں جن سے برآمدات بھی ہوتی ہیں۔ اور فوج اپنے اخراجات بھی پورے کرتی ہے۔ تاہم قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہے بھی تو یہ رقم قومی خزانے میں نہیں بلکہ فوج کے اپنے فنڈ میں ہی جمع ہوتی ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ پاکستان میں فوج پر اخراجات کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔ جی ٹی روڈ پر سفر کیجئے تو ہر پچیس کلومیٹر کے بعد ایک فوجی کنٹونمنٹ ملے گا جو انگریز کی یادگار ہے اور اب اس کی ضرورت سمجھ میں نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی ہیڈ کوارٹرز کو رولپنڈی سے اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس پر بھی اخراجات آئیں گے مگر اس کی آخر ضرورت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک میں کوسٹ گارڈ ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں اس کے ساتھ ساتھ ایک میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی بھی ہے۔ ایک ہی کام دو ادارے کر رہے ہیں۔

پاکستان میں فوجی افسروں کو سول عہدوں پر تعینات کئے جانے کی روایت رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی بعض اہم عہدوں پر فوجی ماہرین تعینات کئے ہیں۔ اس بارے میں جنرل شعیب کا کہنا ہے کہ اگر فوج کے ریٹائرڈ افسریہ قابلیت رکھتے ہیں کہ وہ سول عہدوں پر خدمات انجام دے سکیں تو اس میں کیا حرج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فوجی ماہرین جب بھی کسی سول عہدے پر تعینات کئے گئے، انہوں نے اپنی قابلیت سے اس شعبے کو ترقی دی۔ انہوں نے ماضی میں پاکستان سٹیل ملز اور پی آئی اے میں فوجی افسروں کی بہتر کار کردگی کی مثال دی اور کہا کہ اس سے حکومت کو مالی بچت بھی ہوتی ہے کیونکہ ریٹائرڈ فوجی افسر اگر کسی سول عہدے پر کام کرتا ہے تو اسے پنشن نہیں دی جاتی۔

قیصر بنگالی نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افسر پنشن بھی لیتے ہیں اور تنخواہ بھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال کراچی میں تعینات رینجرز ہیں جو دو تنخواہیں لیتے ہیں۔ اور صرف ریٹائرڈ ہی نہیں حاضر سروس فوجی افسر بھی بعض عہدوں پر تعینات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوجی افسروں نے کسی سول ادارے کی کارکردگی بہتر بنائی بھی تو صرف عارضی طور پر عارضی اقدامات کے ذریعے جو ان کے وہاں سے جاتے ہی ختم ہو گئے۔

لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب نے وائس آف امیریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج اپنے تعمیراتی منصوبوں کے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرتی ہے اور اس کا ہاؤسنگ کا شعبہ اتنا بہتر اور منظم ہے کہ حکومت نے بھی اسے ہاؤسنگ کے اپنے منصوبوں کیلئے قابلِ قدر جانا ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ فوج کی یہ تعمیرات پائیدار رہی ہوں اور اس کی مثال جنرل مشرف کے دور میں کراچی میں تعمیر کیا گیا وہ پل ہے جو مکمل ہونے کے چند روز بعد ہی ٹوٹ گیا تھا۔یا پھر لیاری کا وہ پل جس پر سے بھاری ٹریفک کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان میں فوج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے بلکہ کسی بھی موسمی آفت کی صورت میں خواہ وہ سیلاب ہو، زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت، فوج سویلین آبادی کی مدد کیلئے موجود ہوتی ہے۔ سی پیک جیسے ترقیاتی منصوبے جو بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہیں ان کی سیکیورٹی کی ذمے داری بھی فوج سنبھال رہی ہے۔ اور ٹڈی دل کا صفایا بھی اب فوج ہی کرے گی۔

ملک کو دہشت گردی کے عفریت سے محفوظ رکھنے کیلئے فوج کی خدمات اور قربانیاں نہ صرف موجودہ حالات میں پاکستان کیلئے اثاثہ ہیں بلکہ تاریخ میں بھی رقم ہو چکی ہیں اور سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ میں ایشیا سٹڈیز کے ڈئیریکٹر شکیل احمد رامے کہتے ہیں ملک ایک خاندان کی طرح ہوتا ہے اور اس میں اگر فوج اور سویلین مل کر کام کرتے ہیں تو اسے قابلِ قدر سمجھنا چاہئے۔

تاہم پاکستان کے معاشرے میں فوجی اور سویلین کا فرق موجود ہے اور شاید اس فرق کو دور کرنے کیلئے کوئی ماہر موجود نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG