رسائی کے لنکس

خالد خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے: سیکرٹری دفاع


رواں ماہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنے سربراہ عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

پاکستان کے سیکرٹری دفاع لفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الحسن نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ شدت پسند گروپ جماعت الاحرار کے سربراہ خالد خراسانی کی مشتبہ ڈرون حملے میں مارے جانے کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔

اس بارے میں کمیٹی کے رکن لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا گیا کہ خالد خراسانی کے مارے جانے کے بعد جو تصویر سامنے آئی وہ بہت پرانی تھی۔

سینیٹر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی طرف سے حال ہی میں پاک افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس پر سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ حالیہ میزائل حملے پاکستانی سرزمین پر نہیں ہوئے۔

رواں ماہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنے سربراہ عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

جماعت الاحرار کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ عمر خالد خراسانی افغانستان میں مبینہ امریکہ ڈرون سے کیے گئے میزائل حملے میں مارا گیا۔

جماعت الاحرار نے رواں سال اور اس سے قبل ملک میں ہونے والے کئی مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں گزشتہ سال لاہور کے ایک پارک میں ایسٹر کے موقع پر کیا گیا خودکش حملہ بھی شامل تھا جس میں کم از کم 75 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان افغان حکومت اور وہاں تعینات بین الاقوامی افواج سے افغانستان کی سرزمین پر موجود پاکستانی طالبان بشمول جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد میں کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اب ملک میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر 2005 سے 2007 تک ہونے والے ڈرون حملوں کا تقابلی جائزہ جاری کیا۔

پاکستانی وزیر خارجہ کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ اگر ملک میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہوتیں تو ڈرون حملوں میں کمی کیوں آتی۔

پاکستانی وزیر خارجہ کی طرف سے جاری چارٹ کے مطابق 2005 کے بعد سب سے زیادہ ڈرون حملے 2010 میں ہوئے جن کی تعداد 90 تھی اور اُن میں 831 افراد مارے گئے تھے۔

خواجہ آصف کے مطابق رواں سال اب تک پانچ ڈرون حملے پاکستانی سرزمین پر کیے گئے جن میں 17 افراد مارے گئے۔

امریکی پاکستانی سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بناتا آیا ہے جس میں کئی اہم کمانڈر بھی مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG