رسائی کے لنکس

logo-print

بہتر آگاہی اور موسم میں تبدیلی کے بعد نئے کیسز میں کمی


بہتر آگاہی اور موسم میں تبدیلی کے بعد نئے کیسز میں کمی

پنجاب میں ڈینگی وائرس کا حملہ جاری ہے اور اس وبائی مرض سے اموات بھی واقع ہو رہی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہےکہ حالیہ دنوں میں پنجاب کے مختلف شہروں خاص طور پر لاہور کے ہسپتالوں میں آنے والے ڈینگی زدہ افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیدار کہتے ہیں کہ صورت حال میں پیش رفت کی وجوہ میں لوگوں میں اس وائرس سے محفوظ رہنے کے حوالے سے آگاہی انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے اقدامات اور موسم میں تبدیلی ہے۔

لاہور کے جناح ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جاوید اکرم نے اتوار کو وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں ڈینگی کے حوالے سے موجود صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے بہت خوف و ہراس تھا البتہ اب صورت حال قدر بہتر ہے، لیکن اب جو مریض آ رہے ہیں ان کی حالت کافی تشویش ناک ہے اور یا تو ان کی پلیٹ لیٹس کافی کم ہوتی ہیں یا خدانخواستہ ان کو ڈینگی شاکس سِنڈروم کا اٹیک ہے جس میں خون کی نالیوں سے رسنا شروع ہو جاتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ موسم سرد ہونے کے ساتھ ساتھ اس مرض میں کمی واقع ہوتی جائے گی۔ توقع ہے دسمبر تک اس پر مکمل طور پر قابو پا لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈینگی سے دو سو زیادہ اموات ہو چکی ہیں مگر جتنی تعداد میں لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں اس کےمقابلےمیں اموات کی شرح تشویشناک نہیں ہے کیونکہ اس مرض میں عالمی سطح پر متاثرہ افراد کے ایک فیصد کی ہلاکت کا ریکارڈ موجود ہے جب کہ ہمارے ہاں یہ شرح ایک فیصد کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔

پنجاب میں ڈینگی کے وبائی شکل اختیار کرنے کےبعد سے صوبائی حکومت کی درخواست پر غیر ملکی ٹیمیں بھی ڈینگی کے خلاف مہم میں شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG