رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت گردوں کا جیل پر حملہ ’247 قیدی فرار‘


ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر پیر کو رات دیر گئے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار درجنوں شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں پیر کو شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بننے والی جیل میں منگل کو پولیس حکام قیدیوں کی شناخت اور گنتی میں مصروف ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں پانچ خواتین قیدیوں سمیت 247 قیدی فرار ہوگئے تھے جب کہ چار پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مشتاق جدون نے بتایا کہ فرار ہونے والوں میں سے 14 قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملحقہ آبادیوں میں سکیورٹی اہلکار سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔

فرار ہونے والے قیدیوں میں کسی بھی انتہائی خطرناک ملزم یا شدت پسند کے بارے میں کشمنر کا کہنا تھا کہ ’’اس کی تصدیق کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا، لیکن اس میں سزائے موت کے قیدی بھی تھے۔‘‘

شہر اور اس سے ملحقہ علاقے ٹانک میں منگل کو کرفیو نافذ ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر پیر کو رات دیر گئے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار درجنوں شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

شدت پسندوں نے جیل کے قریب ایک گھر اور اسپتال میں گھس کر وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور تین گھنٹے سے زائد وقت تک ان کا سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔

بعض اطلاعات کے مطابق شدت پسند فرار ہوتے ہوئے ایک خاتون پولیس اہلکار کو بھی اپنے ساتھ یرغمال بنا کر لے گئے ہیں۔

حملے میں اس جیل خانے کو کافی نقصان پہنچا ہے جہاں شدت پسندوں نے عمارت کے بیشتر حصوں کو دھماکا خیز مواد اور آگ لگا کر تباہ کردیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے 300 ساتھیوں کو رہا کروانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیبر پختونخواہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں روپوش عسکریت پسند ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے علاوہ اکثر وبیشتر سرکاری اہلکاروں اور املاک پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ سال اپریل میں صوبے کے جنوبی ضلع بنوں میں بھی شدت پسندوں نے ایک جیل پر حملہ کر کرے وہاں سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا۔ ان قیدیوں میں عدنان رشید بھی شامل ہے جسے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔
XS
SM
MD
LG