رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت مذاکرات میں تسلسل ناگزیر


پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بدھ کو نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے ملاقات میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران وفود کی سطح پر دوطرفہ بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا تسلسل برقرار رکھنا نا گزیر ہے۔

جمعرات کی شام نئی دہلی سے وطن واپسی پر لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اُنھوں نے بھارت میں سیاسی رہنماؤں اور سرکاری عہدے داروں سے ہونے والی اپنی بات چیت کومثبت اور تعمیری قرار دیا۔

نو منتخب وزیر خارجہ نے کہا کہ ”ہم میں سے کئی (افراد) یہ سمجھتے ہیں کہ جامع امن مذاکرات کا عمل اپنی ساکھ کھو بیٹھا ہے کیوں کہ جب کبھی اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہم نے اس عمل کو مسلسل اور بلا توقف بنانا ہے تاکہ جو رفتار ہم مہینوں اور سالوں میں حاصل کرتے ہیں وہ منٹوں اور گھنٹوں میں ضائع نا ہو جائے۔“

حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارت سے دوستانہ تعلقات پاکستان کے قومی مفاد میں ہیں اور اسی لیے اسلام آباد دونوں ملکوں کے مابین اعتماد سازی اور تمام تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔ ”ہم صرف ایسے ماحول کے خواہاں ہیں جو بات چیت کے لیے ساز گار ہو۔ ابھی ماحول معمولی معاملات حل کرنے کے لیے ساز گار ہے اور کل یہی ماحول بڑے معاملات کو حل کرنے کے لیے ساز گار ہوگا۔“

اُنھوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے کسی بھی متنازع اُمور پر اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ہے۔ ”کوئی بھی اپنے اصولی، قانونی اور سیاسی موقف سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔“

حنا ربانی کھر نے کہا کہ مختلف اُمور پر دونوں ملکوں کے موقف میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن پاکستان نہیں چاہتا کہ یہ اس قدر بڑھ جائے کہ ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کو پھر سے دشمن سمجھنا شروع کر دیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اُنھیں یقین دلایا کہ اُن کا ملک خلوص نیت سے پاکستان کے ساتھ مل کر تمام تصفیہ طلب اُمور بشمول جموں و کشمیر کا حل تلاش کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

اُنھوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے طرف سے منموہن سنگھ کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی جو بھارتی وزیر اعظم نے قبول کر لی۔

XS
SM
MD
LG