رسائی کے لنکس

logo-print

وفاق کا پنجاب حکومت کو 'پی ٹی ایم' کے خلاف اشتہاری ویڈیو روکنے کا حکم


اشتہار

اس اشتہاری مہم میں پختون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین کو بھی مذہبی شدت پسند اور فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے والی تنظیموں میں شمار کیا گیا تھا

وفاقی حکومت نے 'پختون تحفظ تحریک' کے سربراہ منظور پشتین کے خلاف پنجاب حکومت کی ایک اشتہاری ویڈیو کو روکنے کا حکم دیا ہے لیکن پی ٹی ایم کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ حکومت کی یقین دہانی کے باوجود اشتہار بدستور نشر کیا جا رہا ہے۔

پختون تحفظ تحریک کے رہنما محسن داوڑ نے پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف ٹیلی وژن چینلز پر چلائی جانے والی اشتہاری ویڈیو کی جانب بذریعہ ٹوئٹر وفاقی حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔

محسن داوڑ کے ٹوئٹ کے جواب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ اشتہار روک دیا گیا ہے۔

لیکن اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ متنازع اشتہار بدستور نشر کیا جا رہا ہے۔

رواں ماہ یعنی محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنے اور فرقہ وارانہ تعصب کے بارے میں اشتعال انگیز تقاریر روکنے کیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے 30 سیکنڈ کے دورانیے کی ایک اشتہاری مہم چند دن ہی روز قبل شروع کی گئی تھی۔ اس اشتہاری مہم میں پختون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین کو بھی مذہبی انتہاپسند اور فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے والی تنظیموں میں شمار کیا گیا تھا۔

سابق قبائلی علاقوں میں خواتین کے حقوق اور اُن میں سیاسی شعور اُجاگر کرنے کیلئے سرگرم، نوشین جمال اورکزئی نے 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے حکومت کو پختون تحفظ تحریک سے منسلک لوگوں اور ان کے رہنماوں کے خلاف اقدام نہ کرنے کا ذمہ دار ٹہرایا۔

بقول اُن کے، اگر حکومت شروع میں ہی تحریک کے مطالبات تسلیم کر لیتی تو یہ تحریک اُسی وقت ختم ہو جاتی۔

اُنہوں نے یاد دلایا کہ تحریک کے رہنماوں نے کراچی پولیس کے ایک سابق عہدے دار، راؤ انوار کو گرفتار کرنے اور اُنہیں قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر، بقول اُن کے، ''حکومت نے نہ صرف راؤ انوار کو رہا کیا، بلکہ قتل کے درجنوں مقدمات کے باوجود ان کو تمام تر سرکاری سہولیات اور مراعات سے نوازا جا رہا ہے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG