رسائی کے لنکس

بلوچستان : نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال اور مریضوں کی مشکلات


بلوچستان : نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال اور مریضوں کی مشکلات

بلوچستان کے تیس اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں نوجوان ڈاکٹروں نے تنخواہوں میں اضافے سمیت اپنے دیگر مطالبات منوانے کے لیے چار اپریل سے ہڑتال شروع کی تھی لیکن 56 روز گزرنے کے باوجودصوبائی حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے اور یہ ہڑتال بدستور جاری ہے ۔

سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے ہزاروں مریضوں بالخصوص دور دراز کے علاقوں سے علاج کی غرض سے آنے والے غریب افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم ،ینگ ڈاکڑز ایسوسی ایشن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر مصطفی ٰ جعفر نے وائس اف امر یکہ کو بتا یا کہ ان کی تنظیم نے اپنے مطالبات کے حوالے سے کئی بار حکومت سے رابطہ کیا لیکن اُن کے بقول تاحال کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی ہے حکومت سے ہر سطح پر ہماری بات ہو ئی ہے لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں گزشتہ دوہفتوں سے تمام ہسپتال مکمل بند ہیں لیکن حکومت کی سطح پرکسی کو کو ئی پرواہ نہیں ہے “۔

ڈاکٹر مصطفیٰ جعفر نے کہا کہ تمام نوجوان ڈاکٹروں کو غریب مریضوں کا احساس ہے اور وہ چاہتے ہیں حکومت سے اُن کے مذاکرات کامیاب ہوں ۔” اگر ہم لوگوں کو غر یبوں کی پرواہ نہیں ہو تی توہم حکومتی اداروں کے پاس خو دکیوں جاتے ہم اس لیے بار بار(متعلقہ حکام کے پاس) جارہے ہیں تاکہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو سکے اور غر یب عوام جو متاثر ہو رہے ہیں اُن کو مزید تکلیف نہ ہو “۔

صوبائی سیکر ٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ نوجوان ڈاکٹروں کے مسائل کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ” کمیٹی میں تما م پہلوؤں پر غو ر کرنے کے بعد جو جائز مطالبات ہیں اُن سے حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کی سفارشات وزیراعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کو بھیج دی جائیں گی اگر پھر بھی ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم نہ کی تو پھر سر کاری ملازمین کے لیے وضع کئے گئے قواعد وضوابط کے مطابق جو قوانین لاگو ہو ں گے ان کے مطابق کاروائی کر یں گے “۔

بلوچستان کی لگ بھگ نو ے لاکھ کی آبادی کے لیے صوبائی دارالحکومت کو ئٹہ میں چار جب کہ صوبے کے باقی 29 اضلاع میں ستائیس ہسپتال ہیں جہاں0 28 سے زائد ماہرین امراض سمیت 3300 ڈاکٹر تعینات ہیں۔

XS
SM
MD
LG