رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان دوحہ مذاکرات کے اگلے دور میں شریک نہیں ہو گا


دوحہ میں افغان امن مذاکرات کا ایک منظر، مارچ 2019

پاکستان نے کہا ہے کہ اسلام آباد رواں ماہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے آئندہ دور میں شرکت نہیں کرے گا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے یہ بات جمعرات کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہی ہے۔

دوحہ مذاکرات کے آئندہ مذکرات سے متعلق وائس آف امریکہ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ‘‘ پاکستان اپریل میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔’’

تاہم ترجمان نے کہا کہ ‘‘پاکستان ماضی میں (افغان) امن مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے اور افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا ۔’’

اگرچہ قبل ازیں امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر اور متحدہ عرب امارت میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر پاکستان کے سفارتی نمائندے شریک رہے ہیں تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ پاکستان امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے آئندہ دور میں کیو ں شریک نہیں ہو گا۔

افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی طاہر خان نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ان مذاکرات میں شرکت نہ کرنا، ان کے بقول بظاہر اسلام آباد اور امریکہ کے درمیان افغان امن عمل سے متعلق کسی اختلاف کا مظہر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، ‘‘ میرا خیال نہیں کہ اس کی وجہ کوئی اختلاف ہے۔ پاکستان کا پہلے بھی یہ موقف رہا ہے کہ جب طالبان اور امریکہ یا افغانوں کے درمیان مذاکرات آگے بڑھیں گے تو پاکستان ان مذاکرات میں شریک نہیں ہو گا۔’’

تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا ہے کہ جب امریکہ اور طالبان اور دیگر افغانوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے کئی اداور ہو گئے تو ان کے بقول امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری براہ راست مذاکرات میں کسی تیسرے کے رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا اور امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں افغان امن عمل کی امریکی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

گزشتہ ماہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے آخری دور کے بعد خلیل زاد نے کہا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان بعض امور سے متعلق ایک سمجھوتے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

تاہم امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی کوششوں کے باوجود طالبان کابل حکومت کے ساتھ بات چیت پر آماد نہیں۔ انہوں نے افغانوں پر مشتمل ایک مذاکرتی وفد سے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم طالبان کے بقول اس وفد میں کابل حکومت کے نمائندے ذاتی حیثت میں شریک ہو کر افغانو ں کے درمیان ممکنہ بات چیت میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے حال ہی میں کابل حکومت، حزبِ اختلاف کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کونسل قائم کی ہے طالبان کے ساتھ متوقع بات چیت کے لیے مذاکرات کاروں کا وفد تشکیل دے گی جو اپریل کے تیسرے ہفتے میں دوحہ میں ہو سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضع نہیں کہ اس وفد کی تشکیل کب ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG