رسائی کے لنکس

logo-print

گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی پر مذہبی جماعتوں کے خدشات


گھریلو تشدد کے خلاف قانونی مسودے کے مطابق پہلے مرحلے میں تنازعات کے حل کے لیے مقامی افراد پر مشتمل مصالحتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو شکایات سننے کے بعد باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ سنائے گی۔ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں مجسٹریٹ کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ شکایات سننے کے 30 دن کے اندر فیصلہ دے تاکہ بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ قانون میں جرم کے مرتکب افراد کے لیے سزا کی زیادہ سے زیادہ حد 3 سال اور ایک لاکھ روپے جرمانہ تجویز کی گئی ہے۔

پاکستان کی پارلیمان میں گھریلو تشدد کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک مجوزہ قانون کی منظوری گزشتہ تین سال سے طوالت کا شکار ہے۔

اس قانون کے ذریعے ذاتی ملازمین، والدین، اولاد اور خواتین پر ہونے والے تشدد کو جرم قرار دے کر سزائیں تجویز کی گئی ہے۔

ملک بھر میں مذہبی حلقے اور پارلیمان میں موجود مذہبی جماعتیں گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی مخالفت کر رہی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ یہ قانون ’’قرآن و سنت کی تعلیمات اور معاشرتی روایات‘‘ کے مخالف ہے۔

گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی مخالفت کرنے والی مذہبی جماعت جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے والدین اولاد کے خیرخواہ ہوتے ہیں لیکن اگر والدین اولاد کو کسی بات سے روکیں، کسی بات کی سختی سے تنبیہ کریں تو اس قانون کے تحت یہ تشدد کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ اسلام میں والدین کی تابع داری کا حکم دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گھریلو تشدد کے حوالے سے مغربی معاشرے میں تو قانون ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ایسے قانون نہیں بننے چاہیئں۔

’’والدین بچوں کی اصلاح کے لیے سختی کریں تو یہ قانون حرکت میں آتا ہے۔‘‘

مولانا غفور حیدری کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق اس قانون کو پہلے اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے۔

’’ہم نے کہا کہ اس کو (اسلامی) نظریاتی کونسل کی طرف بھیجیں، اسے قرآن و سنت کے مطابق بنائیں، ہم اس کو پاس (منظور) کریں گے۔‘‘

ایوان میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون متعارف کروانے والی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی یاسمین رحمٰن نے اس تنقید کو مسترد کیا ہے۔ ’’اس قانون میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہو اور معاشرے کی بہتری کے لیے جو پارلیمان کا کردار ہے اسے بہتر طریقے سے ادا کرتے ہوئے اس قانون کو پاس ہونا چاہیئے۔‘‘

یاسمین رحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس مجوزہ قانون کے ذریعے معاشرے میں موجود تشدد پسند رویوں کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی جا رہی ہے، اور پارلیمان کو سیاسی مفاد پس پشت ڈال کر اس قانون کی منظوری میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔

’’یہ قانون سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ کی نظر ہو رہا ہے، اس قانون کو کسی نے تفصیل سے نہیں پڑھا ہے۔‘‘

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ان کی جماعت اس قانون کے حق میں ہے لیکن گھریلو تشدد کے خلاف قانون میں موجود قانونی نقائص دور کرکے اس کو منظور کروائے گی۔

’’اراکین کو اس پر پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ایوان عوامی نمائندوں کا اجتماع ہے جو مجموعی فہم و فراست سے اس قانون کو منظور کرا ئے گا۔‘‘

گھریلو تشدد کے خلاف قانونی مسودے کے مطابق پہلے مرحلے میں تنازعات کے حل کے لیے مقامی افراد پر مشتمل مصالحتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو شکایات سننے کے بعد باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ سنائے گی۔

مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں مجسٹریٹ کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ شکایات سننے کے 30 دن کے اندر فیصلہ دے تاکہ بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ قانون میں جرم کے مرتکب افراد کے لیے سزا کی زیادہ سے زیادہ حد 3 سال اور ایک لاکھ روپے جرمانہ تجویز کی گئی ہے۔

2009ء میں قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی منظوری دی تھی۔ لیکن 90 دن کے اندر ایسے سینیٹ میں منظوری کے لیے نہیں پیش کیا جا سکا۔

آئین میں کی جانے والی اٹھارویں ترمیم کے بعد گھریلو تشدد کے سد باب کے لیے تاخیر کا شکار ہونے والے قانون کی منظوری قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہی ممکن ہو گی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں سادہ اکثریت سے گھریلو تشدد کے خلاف قانون منظور کروا سکتی ہیں۔ لیکن حکومت چاہتی کہ اس قانون کو متفقہ طور پر ایوان سے منظور کروایا جائے۔

XS
SM
MD
LG