رسائی کے لنکس

logo-print

سابق قبائلی علاقوں کے لیے ڈی پی او تعینات، احتجاج جاری


خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں میں ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ایک سرکاری اعلان کے مطابق، سات نئے اضلاع میں ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے، جنھیں فوری طور پر فرائض سنبھالنے اور کام شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقوں میں شامل تمام سات ایجنسیوں اور چھ فرنٹیر ریجنز میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے مجموعی طور پر روایتی خاصہ دار اور لیویز فورسز میں اہلکاروں کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہے۔ پچھلے سال مئی کے اواخر میں قبائلی علاقوں کے خیبر پختون خواہ میں انضمام کے بعد یہ اہلکار باقاعدہ طور پر پولیس فورس کا حصہ بننے کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

اس مطالبے کے حق میں یہ اہلکار احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، جبکہ تاریخی باب خیبر کے مقام پر احتجاجی کیمپ میں دھرنا پچھلے تین ہفتوں سے جاری ہے۔

زیادہ تر نئے اضلاع سے تعلق رکھنے والے خاصہ دار اور لیویز کے اہلکاروں نے چند روز قبل انسداد پولیو مہم میں احتجاجاً سیکورٹی فرائض کے ادائیگی سے بائیکاٹ کیا تھا۔

ضلع خیبر میں خاصہ دار فورسز کے اہلکاروں کی تنظیم کے ترجمان، نور محمد آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُنہیں ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی پر تحفظات ہیں، کیونکہ، بقول اُن کے، حکومتی عہدیداروں نے وعدوں کے باوجود خاصہ دار اور لیویز فورسز کے اہلکاروں کو ابھی تک پولیس فورس کا حصہ بنانے کے بارے میں کسی قسم کا سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر ضلعی پولیس افسران خاصہ دار اور لیویز فورسز کے اعداد و شمار اور کوائف چھان بین کیلئے آتے ہیں تو ٹھیک، بصورت دیگر وہ ان افسران کی تعیناتی کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر کی قیادت میں چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی میں صوبائی سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور فوج کے نمائندے شامل ہیں اور یہ کمیٹی خاصہ دار اور لیویز فورسز کے ساتھ مذاکرات کرکے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے فیصلہ کریگی۔

اعلامیہ جاری کرنے کے بعد، اجمل وزیر نے خاصہ دار اور لیویز فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تاہم، ابھی تک مذاکرات کے نتائج کے بارے میں کسی قسم کی پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب، روایتی قبائلی رہنما جو قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں، انھوں نے بھی پولیس افسران کی تعینانی کو مسترد کر دیا ہے۔ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما صلاح الدین آفریدی نے کہا ہے کہ انضمام کا فیصلہ قبائلی عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے، بقول ان کے، اس کی مزاحمت کی جا رہی ہے۔

انضمام کے خلاف پشاور اور کوہاٹ کو ملانے والی پٹی، درہ آدم خیل میں ہفتے کے روز بھی مظاہرہ کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG