رسائی کے لنکس

logo-print

ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں پر تشویش


وفاقی وزیر ممتاز عالم گیلانی

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومین رائٹس کمیشن نے بھی افغان سرحد سے ملحقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے مبینہ امریکی طیاروں کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی شدید تشویس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔

اس سال انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر غیر سرکاری تنظیموں اور اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ انسانی حقوق کے وفاقی وزیر نے بھی ملک کے قبائلی علاقوں میں تواتر کے ساتھ ہونے والے مبینہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

انسانی حقوق کے وفاقی وزیرممتاز عالم گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ڈرون حملوں میں جہاں دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا جاتا ہے وہیں ان میں ایسے افراد بھی مارے جاتے ہیں جن کا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

سرکاری سطح پر ان میزائل حملوں میں ہلاک ہونے والے بے گناہ افراد کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں تاہم وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب اُن کی وزارت نے ایسے افراد کے کوائف جمع کرنے کا کام شروع کیا ہے جو مبینہ طور پر ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں۔

ممتاز گیلانی نے اس تنقید کوبھی رد کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے کسی خفیہ معاہدے کے تحت امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔

دریں اثناء جمعہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے قبائلی علاقوں میں مبینہ ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اِن حملوں کو پاکستانی حدود میں غیر ملکی مداخلت قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومین رائٹس کمیشن نے بھی افغان سرحد سے ملحقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے مبینہ امریکی طیاروں کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی شدید تشویس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔

امریکی حکام براہ راست ان حملوں پر تبصرہ نہیں کرتے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG