رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، امدادی کارروائیاں تیز


پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے قرام قرم ہائی وے پر گرنے والے پتھروں کو ہٹانے کا کام شروع کر دیا تھا اور منگل کو حکام کے بقول تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر ٹریفک کو بحال کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں آنے والے طاقتور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں منگل کو امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئیں اور بعض دور افتادہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک ہیلی کاپٹروں کی مدد سے خوراک اور دیگر اشیا پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

پیر کی دوپہر آنے والے زلزلے کا مرکز افغانستان میں بدخشاں کے قریب سلسلہ کوہ ہندوکش میں تھا جس کی شدت امریکی محکمہ ارضیاتی سروے کے مطابق 7.5 جبکہ پاکستانی محکمہ موسمیات کے مطابق 8.1 بتائی گئی۔

زلزلے کے جھٹکے افغانستان اور بھارت کے مختلف علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے لیکن اس سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان پاکستان کے شمال مغرب میں ہوا۔

منگل کو حکام نے 248 افراد کے ہلاک اور 1600 سے زائد کے زخمی ہونے کا بتایا جب کہ زلزلے سے ڈھائی ہزار سے زائد مکانات اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

سب سے زیادہ متاثر صوبہ خیبر پختونخواہ کا علاقہ شانگلہ ہوا جہاں زلزلے سے لگ بھگ 40افراد ہلاک ہوئے۔

شمالی علاقے گلگت بلتستان میں جانی نقصان تو نسبتاً کم ہوا ہے لیکن شدید زلزلے سے پہاڑی تودے گرنے سے یہاں مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا اور مختلف علاقوں کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

پاکستان فوج کے اہلکاروں نے قرام قرم ہائی وے پر گرنے والے پتھروں کو ہٹانے کا کام شروع کر دیا تھا اور منگل کو حکام کے بقول تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر ٹریفک کو بحال کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اپنا دورہ مختصر کر کے پیر کو برطانیہ سے وطن واپس پہنچ گئے تھے اور منگل کو انھوں نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحیٰ اجلاس میں زلزلے سے بحالی کے کام کے امور کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی وسائل ہی سے زلزلہ متاثرین کی مدد اور بحالی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

بعد ازاں وہ خیبر پختونخواہ گئے اور ضلع شانگلہ کا دورہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزلہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ان کی بحالی کے لیے اقدام کیے جائیں گے۔

"میں سمجھتا ہوں کہ ایک دم اعلان کرنے کی بجائے بیٹھ کر ایک اچھا پیکج بنایا جائے تاکہ وہ لوگ جن کا نقصان ہوا ان کو باقاعدہ اس کا صحیح معاوضہ مل سکے تاکہ وہ پھر دوبارہ اپنے گھروں کی تعمیر کر سکیں۔"

ادھر سیاحتی مقام ناران میں برفباری کی وجہ سے لگ بھگ ایک ہزار سیاح محصور ہوگئے تھے جنہیں راستوں سے برف ہٹا کر وہاں سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان اس علاقے میں واقع ہے جہاں زیر زمین زلزلے آتے رہتے ہیں۔ دس سال قبل آٹھ اکتوبر کو بھی 7.6 شدت کے زلزلے سے پاکستان میں لگ بھگ 74 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

چھ ماہ قبل ہی پڑوسی ملک نیپال میں شدید ترین زلزلہ آیا تھا جس سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے جب کہ دارالحکومت کٹھمنڈو سمیت مختلف علاقوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG