رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ لگانے کا کام جاری


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے جزوی اور مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 36 ہزار سے زائد ہے۔

پاکستان میں 26 اکتوبر کو آنے والے شدید زلزلے سے متاثرہ افراد، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی تعداد معلوم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی ٹیمیں بھی روانہ کی جا چکی ہیں۔

تاحال سرکاری طور پر یہ نہیں بتایا جا سکا ہے کہ زلزلے سے کل کتنے افراد متاثر ہوئے اور اُن میں بچوں اور خواتین کی تعداد کتنی ہے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پہلی ترجیح لوگوں کی زندگی بچانا تھی اور اب متاثرہ لوگوں کی مجموعی تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

’این ڈی ایم اے‘ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 272 ہو چکی ہے جب کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 55 بچے بھی شامل ہیں جب کہ 99 بچے زخمی بھی ہوئے۔

زلزلے سے مجموعی طور پر 2141 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے جزوی اور مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 36 ہزار سے زائد ہے۔

7.5 شدت کے زلزلے کا مرکز افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں پہاڑی سلسلے ہندوکش میں 196 کلو میٹر زیر زمین تھا۔ اس زلزلے سے 120 سے زائد افراد افغانستان میں بھی ہلاک ہوئے۔

زلزلے سے سب سے زیادہ پاکستان کے شمالی پہاڑی اضلاع متاثر ہوئے جہاں سردی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آںے والے دو روز کے دوران متاثرہ علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر اور مال بردار فوجی طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

’این ڈی ایم اے‘ کے مطابق 26 اکتوبر کے بعد سے اب تک بعد از زلزلہ 74 جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 2.2 سے 5.3 تک ریکارڈ تھی۔

XS
SM
MD
LG