رسائی کے لنکس

logo-print

اقتصادی ترقی کا مطلوبہ ہدف حاصل نا ہو سکا: اقتصادی جائزہ رپورٹ


وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی ترقی کا مجوزہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا اور اُن کے بقول اس کی وجہ کپاس کی خراب فصل بنی۔ ’’کپاس کی فصل تقریباً 28 فیصد کم ہوئی ہے۔‘‘

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سالانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ برائے سال 2016-2015 جاری کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی کا مجوزہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا اور اُن کے بقول اس کی وجہ کپاس کی خراب فصل بنی۔

اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اقتصادی شرح نمو 4.71 فیصد رہی۔

’’ہمارا ہدف بہتر ہوتا، ہدف کے قریب ہوتا اگر کپاس کی فصل خراب نہ ہوتی۔ کپاس کی فصل آپ کو پتا ہے کہ تقریباً 28 فیصد کم ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں 0.5 فیصد کا جی ڈی پی گروتھ میں خسارہ ہوا ہے اگر یہ نہ ہوتا تو (اقتصادی شرح نمو) 5.21 فیصد ہوتی تو اس کے حوالے سے ہم کچھ اقدام لے رہے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے صنعتی ترقی کے بارے میں کہا کہ ’’جہاں تک صنعتی ترقی کا تعلق ہے وہ 6.8 فیصد رہی ہے اس سال اور پچھلے سال کا جو نمبر ہے وہ 4.81 فیصد ہے یعنی میں مالی سال 2014-15 کی بات کر رہا ہوں‘‘

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ برآمدات کے ہدف میں بھی تقریباً 9.6 فیصد کمی ہوئی۔

تاہم اُنھوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے کہا کہ اُن میں بہتری آئی ہے اور اس وقت پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 60 کروڑ ڈالر ہیں جن میں سے 16 ارب 80 کروڑ ڈالر ملک کے مرکزی بینک (یعنی اسٹیٹ بینک) کے پاس ہیں جب کہ بقیہ چار ارب 80 کروڑ ڈالر نجی بینکوں کے پاس ہیں۔

واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل سالانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی جاتی ہے جس میں رواں مالی سال کے لیے متعین کردہ اہداف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن میں کتنی کامیابی ملی۔

وزیر خزانہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے۔

XS
SM
MD
LG