رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیراعظم نواز شریف


وزیراعظم نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہونے سے ملک کی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت سمیت متعدد شعبوں کو فائدہ ہوگا۔

پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی کی سہولت کے لیے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد یورپی پارلیمنٹ کا ایک نمائندہ وفد لاہور پہنچا ہے جو یورپ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے جیسے معاملات پر بات چیت کرے گا۔

یورپی پارلیمنٹ کے ’’احباب پاکستان گروپ‘‘ میں سجاد کریم، ڈیوڈ مارٹن اور سسیلیا وکسٹورم شامل ہیں۔

رواں ہفتے جمعرات کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا تھا جس کا اطلاق یکم جنوری 2014ء سے ہوگا۔

یہ درجہ حاصل ہونے سے پاکستان کی مصنوعات خصوصاً کپڑے کی مصنوعات یورپ کے ملکوں تک بغیر کسی ڈیوٹی کے برآمد کی جاسکیں گی۔

یورپی پارلیمنٹ کے وفد نے لاہور میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ایک تقریب سے خطاب میں گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کے مختلف اداروں کی کوششوں کے بعد مصنوعات کی برآمد سے متعلق یہ رعایت ملی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں دہشت گردی اور پڑوسی ملک افغانستان کے حالات کے باعث پاکستان کی اقتصادی صورت حال بری طرح متاثر ہوئی۔

’’ہماری معیشت نے اس جنگ کا بوجھ برداشت کیا، اقتصادی ترقی سست روی کا شکار ہوئی اور شرح نمو میں کمی آئی۔‘‘

گورنر پنجاب نے کہا کہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک کی معیشت کو بلواسطہ اور بلاواسطہ 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی کا درجہ ملنے سے ملک کی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھی جمعہ کی شب قانون سازوں سے ملاقات میں کہا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہونے سے ملک کی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت سمیت متعدد شعبوں کو فائدہ ہوگا۔

اُنھوں نے ایک بیان میں کہا کہ جب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت وجود میں آئی ملک کی ترقی کی شرح 5.1 فیصد ہو گئی ہے جو کہ گزشتہ سال 2.9 فیصد تھی۔ ان کے بقول حکومت شرح نمو کو آئندہ چار سالوں میں سات فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ جی ایس پی پلس درجہ ملنے کا بھرپور فائدہ صرف اُسی صورت حاصل کر سکیں گے جب صنعتوں کو بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

’’روز آپ سنتے ہیں کہ بجلی کا کارخانہ کراچی میں لگ رہا ہے، جامشورو میں، ندی پور میں اور نیلم جہلم میں بجلی کے پیدواری منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ ہم اس جانب قدم اُٹھا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے اور اقتصادی صورت حال بھی بہتر ہو۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے جامشورو کے پاور پلانٹ میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے بقول ان منصوبوں سے آئندہ تین سے چار سالوں میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے اہداف حاصل ہو سکیں گے۔
XS
SM
MD
LG