رسائی کے لنکس

logo-print

شرح نمو، مہنگائی، حکومتی قرضوں میں اضافہ: اسٹیٹ بینک


اقتصادی ماہر ثاقب شیرانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضے اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر شرح نمو میں بہتری سے مستقبل قریب میں مہنگائی میں کمی ممکن نہیں۔

اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی مجموعی شرح نمو میں پانچ فیصد تک اضافہ ہوا ہے جو کہ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جمود کی شکار پاکستان کی معیشت کا پیہہ چلنے لگا ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان تین ماہ میں نا صرف حکومت نے اسٹیٹ بنک اور دیگر بنکوں سے ایک کھرب روپے کے قرضے حاصل کیے بلکہ ملک میں مہنگائی میں بھی 8.1 فیصد تک اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بنک کے مطابق مالی سال 2013/14 میں پاکستان کی مجموعی شرح نمو 4 فیصد سے کم اور مالی خسارہ 6 اور سات فیصد کے درمیان رہے گا۔

اقتصادی ماہر ثاقب شیرانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضے اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر شرح نمو میں بہتری سے مستقبل قریب میں مہنگائی میں کمی ممکن نہیں۔

’’زیر گردش قرضہ اس لیے دوبارہ کھڑا ہورہا ہے کہ ہم توانائی کے شعبے میں اصلاحات بہت دھیمے انداز میں کررہے ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ایک اہم قدم ہے مگر یہاں اس بارے میں واضح نہیں کہ حکومت کر بھی رہی ہے یا نہیں۔ اگر یہ حکومت کرلے تو معیشت کے لیے ’گیم چینجر‘ ہوگا‘‘۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف بھی پاکستان کی کمزور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اقتصادی شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں ان کے بقول غیر منصفانہ مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی اندرونی سلامتی کی صورتحال اور رواں سال کے اواخر میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں کے حالات پاکستان کی معیشت کے رخ کا بھی تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ثاقب شیرانی کہتے ہیں کہ شفاف نجکاری کا عمل پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

’’نجکاری پوری دنیا میں متنازع ہی ہوتی ہے۔ مگر پاکستان کے کیس میں اس حکومت میں زیادہ متنازع اس لیے ہے کہ کچھ گروپس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ شاید اس سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔ اگر شفاف ہوجاتی ہے تو پاکستانی معیشت کے لیے بہت بہتر ہے۔‘‘

اسٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسوں کی وصولی میں 19 فیصد تک اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت کے لیے تمام تر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

’’ہمارے یہاں وسائل کی تقسیم بہت غیر مساوی رہی۔ امیر امیر تر ہوتا چلا گیا اور اس کے لئے تمام وسائل بھی موجود تھے جبکہ جو ہنر مند تھے ان کے لیے وسائل مہیا کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی تو ہم نے ماضی کی غلطی کو ٹھیک کرنا ہے۔‘‘

پاکستانی سرکاری عہدیدار امید کررہے ہیں کہ رواں ماہ آئی ایم ایف سے قرضے کی تقریباً 55 کروڑ کی قسط موصول ہو جائے گی جبکہ حکومت مارچ کے اواخر تک تھری اور فور جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے 6 لائسنسز کی نیلامی کا اعلان کر چکی ہے جس کے ذریعے نواز شریف انتظامیہ توقع کررہی ہے کہ کم از کم 1.6 ارب ڈالر کی آمدن ہوگی۔
XS
SM
MD
LG