رسائی کے لنکس

logo-print

'ملی مسلم لیگ کو رجسٹر کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا'


فائل فوٹو

کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ سے مبینہ طور پر منسلک جماعت 'ملی مسلم لیگ' کی بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کا معاملہ تاحال التوا کا شکار ہے اور کمیشن کی طرف سے اس بارے میں وزارت داخلہ کو حتمی رپورٹ دو روز میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گزشتہ اگست میں قائم ہونے والی اس جماعت کی رجسٹریشن کو الیکشن کمیشن نے اکتوبر میں مسترد کر دیا تھا جس کے خلاف اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت عالیہ نے کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے اس جماعت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا کہہ رکھا تھا اور پیر کو وزارت کے حکام نے کمیشن کو بتایا کہ متعلقہ ایجنسیز کو خطوط بھیجے گئے ہیں اور تاحال حتمی رپورٹ تیار نہیں ہوئی۔

اس جماعت کا موقف ہے کہ اس میں شامل افراد نہ تو کسی پابندی اور نہ ہی کسی نگرانی والی فہرست میں شامل ہیں اور انھیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔

تاہم گزشتہ سال جب یہ جماعت تشکیل دی گئی تو سیف اللہ خالد اس کے صدر منتخب ہوئے تھے جو جماعت الدعوۃ کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور ملی مسلم لیگ کو حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا ہی ایک نیا چہرہ باور کیا جاتا ہے۔

رواں سال اپریل میں امریکہ نے ملی مسلم لیگ اور تحریک آزادی کشمیر نامی پاکستانی جماعتوں کو بھی لشکر طیبہ سے منسلک قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی تھی۔

گو کہ پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف حالیہ مہینوں میں مؤثر اقدام کیے ہیں لیکن غیر جانبدار حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ یہ تنظیمیں نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ لہذا اس بابت بھی ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے۔

سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سلامتی کے امور کے ماہر تسنیم نورانی نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایک ایسے وقت جب پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سنگین اقدام کا خدشہ لاحق ہے اور اگر ملی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کر لیا جاتا ہے تو یہ ان کے لیے حیرت کی بات ہو گی۔ ان کے بقول یہ ایک ایسا معاملہ ہو گا جو فی الحال پاکستان کے مفاد میں نہیں جائے گا۔

"اگر اجازت انھیں دے دی جاتی ہے سیاسی جماعت کو اور سیاسی جماعت حافظ سعید کی ہوئی بیشک کسی نام میں بھی ہو تو میرا خیال ہے کہ اس کا ردعمل ہو گا جو پاکستانی حکومت اس وقت چاہ نہیں رہی۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کی کوئی بھی ایجنسی ایسا قدم اٹھائے گی۔"

تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کے اقدام کا جائزہ ایک حساس معاملہ ہے جس سے بظاہر پاکستان کو شاید کوئی بڑا نقصان نہ ہو لیکن اس کے مضمرات اس ملک کے لیے بین الاقوامی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG