رسائی کے لنکس

سینیٹ میں نگرانی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ جاوید عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صورتحال خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جس کے لیے حکومت کے علاوہ معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں خصوصاً نجی اسکولوں اور کالجز کے طلبا میں منشیات کے استعمال سے متعلق خبریں سامنے آتی رہی ہیں جس سے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے پہلے سے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں واقع ملک کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی کے انتظامی عہدیدار نے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ان کے تعلیمی ادارے میں نہ صرف منشیات اور شراب استعمال کی جا رہی ہے بلکہ بڑی مقدار میں ممنوعہ اشیا کی خریدو فروخت کی اطلاعات بھی ہیں۔ اس انکشاف سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عہدیدار کے بقول یہ صورتحال باعث تشویش ہے اور انتظامیہ اپنے طور پر اس سے نمٹنے کے اقدام تو کرتی آ رہی ہے لیکن حکومت کی طرف سے بھی اس بابت سخت کارروائی ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ ہی لاہور کی ایک بڑی نجی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ایک طالب علم مردہ حالت میں پایا گیا جس کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اس کی موت منشیات کے کثرت استعمال سے ہوئی۔

حکام تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال سے باخبر ہیں تاہم ان کے بقول یہ کہنا درست نہیں کہ تمام تعلیمی ادارے اس کی لپیٹ میں ہیں۔

سینیٹ میں نگرانی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ جاوید عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صورتحال خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جس کے لیے حکومت کے علاوہ معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

"قائداعظم یونیورسٹی میں ہاں سنگین تحفظات تھے کہ وہاں ایسی چیزیں بہت زیادہ ہیں اسلام آباد کی حد تک حکومت کوشش کر رہی ہے۔۔۔اکا دکا واقعات ضرور ہو رہے ہوں گے لیکن کوئی اس طرح کا منظم گروہ نہیں ہے اسکولوں یا کالجز کے اندر جو یہ کام کر رہا ہو۔ سب سے زیادہ ذمہ داری والدین کی ہے پھر اسکولوں کی ہے پھر ان کے اسٹاف کی ہے پھر معاشرے میں ہم سب کی ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے۔"

کئی بڑے تعلیمی اداروں میں دہائیوں تک تدریسی شعبے سے وابستہ رہنے والے ڈاکٹر مہدی حسن کا بھی کہنا ہے کہ ایسے اکا دکا واقعات کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال ہو رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اپنے طلبا پر نظر رکھتی ہے لیکن زیادہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نگاہ رکھیں۔

"سب سے بڑی ذمہ داری تو ان کے گھر والوں کی ہے جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں اس کے بعد ان تعلیمی اداروں کے سربراہان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پر نظر رکھیں یا ان کی صحیح طور پر راہنمائی کریں۔"

پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کے صحیح اعدادوشمار تو دستیاب نہیں ہو سکے لیکن اقوام متحدہ کے گزشتہ سال کے اعدادوشمار میں یہ تعداد 67 لاکھ کے قریب ظاہر کی گئی ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے خیال میں منشیات کے استعمال کے رجحان میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عام آدمی کے لیے ملک میں تفریحی مواقع کی کم یابی ہے۔

"جو امراء ہیں وہ تو اپنے تو اپنے لیے کلبوں میں یا ملک سے باہر یا سیر سپاٹے میں تفریح حاصل کر لیتے ہیں مگر جو ایک بڑی تعداد ہے لوگوں کی اس کے لیے تفریح کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا کہ کس طرح وہ اپنا فارغ وقت گزارے۔ نواجوانوں کو جب کوئی مقصد نظر نہیں آتا تو وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔"

سینیٹر جاوید عباسی کہتے ہیں کہ قائمہ کمیٹی نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں کے تعلیمی اداروں سے متعلق صورتحال سے کمیٹی کو آگاہ کریں۔

رواں ماہ ہی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے خلاف جاری مہم کو تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت منشیات کی روک تھام اور نوجوان نسل کو اس میں دھکیلنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG