رسائی کے لنکس

انسداد پولیو مہم کے مغوی انچارج کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جا سکا

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

خیبر پختنونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک سے ملحقہ نیم قبائلی علاقے سے اغوا ہونے والے انسداد پولیو مہم کے ایک عہدیدار کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے اور حکام کے بقول اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔

منگل کو پنگ نامی علاقے سے نامعلوم مسلح افراد انسداد پولیو مہم کے انچارج ثنااللہ اور دیگر دو کارکنوں کو اغوا کر کے لیے گئے تھے۔

بعد ازاں دو کارکنوں کو تو اغوا کاروں نے رہا کر دیا لیکن ثنا اللہ اب بھی ان کے قبضے میں ہے۔

ٹانک میں محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر عباس شیرانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ اغوا کاروں نے ثنااللہ کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

"اغوا کاروں نے ایک مغوی کو رہا کرتے وقت ایک خط دیا تھا کہ یہ ثنا اللہ کے بھائی کو دے دو اس میں لکھا ہے کہ ثنا اللہ کی رہائی کے بدلے 12 روپے تاوان مانگا گیا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔

علاقے میں شروع کی گئی تین روزہ انسداد پولیو مہم کا بدھ کو آخری روز تھا لیکن پنگ کی تین یونین کونسلز میں اغوا کے اس واقعے کے بعد یہ مہم منگل کو ہی معطل کر دی گئی تھی۔

افغانستان اور نائیجیریا کے علاوہ پاکستان دنیا وہ تیسرا ملک ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

ان کوششوں کو انسداد پولیو مہم کی ٹیموں پر ہونے والے مہلک حملوں سے بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

لیکن حکومت میں شامل عہدیداروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مہم کے تسلسل سے ماضی کی نسبت اس ضمن میں خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں اور رواں سال کے اختتام تک ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG