رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں اس سال بھی دو عیدیں


پاکستانی قوم کا ملک بھر میں ایک ساتھ عید منانے کا خواب اس سال بھی پورنہیں ہوسکا ہے اور اس بار بھی یہاں دو عیدیں منائی جارہی ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں جمعہ کوعید منائے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلےکے مطابق ملک کے باقی حصوں میں عیدالفطر ہفتہ کے روز ہوگی۔

پاکستان میں رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا معاملہ تقریباً ہر سال ہی اختلاف کا شکار ہوتاہے اور صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں اور قبائلی علاقوں میں قائم غیر سرکاری رویتِ ہلال کمیٹیوں اور مقامی علماء کی جانب سے مرکزی کمیٹی کے فیصلہ کو عموماً تسلیم نہیں کیا جاتا۔

شوال کا چاند دیکھنے کیلیے سرکاری رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز کراچی میں ہوا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک بھر میں کسی بھی شہر یا قصبے سے چاند نظر آنے کی شرعی شہادتیں موصول نہیں ہوئی ہیں۔

مفتی منیب نے بتایا کہ مرکزی کمیٹی کے علاوہ زونل اور ضلعی رویتِ ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی صوبائی اور ضلعی صدر مقامات پر منعقد ہوئے تاہم کسی بھی کمیٹی کو چاند نظر آنے کی شہادت نہ ملنے کے بعد متفقہ طور پر ملک بھر میں عید 11 ستمبر بروز ہفتہ منائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مفتی منیب الرحمن نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستانی قوم سے عید کی خوشیوں میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے ہم وطنوں کو شریک کرنے کی اپیل کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلیانِ وطن عید کے اخراجات کا کم از کم پچاس فیصد سیلاب زدگان پر خرچ کر یں۔ پاکستان میں اس سال کی طوفانی مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلابوں سے کم از کم 17 سو افراد ہلاک اور دو کروڑ کے لگ بھگ متاثر ہوئے ہیں۔

قبل ازیں لاہور، کوئٹہ اور اسلام آباد کی زونل کمیٹیوں کی جانب سے اپنی اپنی حدود میں رویتِ ہلال نہ ہونے کا اعلانات کردیے گئے تھے۔ تاہم پشاور کی زونل کمیٹی اور کراچی میں ہونے والے مرکزی کمیٹی کے اجلاس معمول کے برعکس کافی دیر تک جاری رہے اور رات نو بجے کے بعد شوال کا چاند نظر نہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔

تاہم مرکزی کمیٹی کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد پشاور کی مسجد قاسم جان میں ہونے والے مقامی غیر سرکاری رویتِ ہلال کمیٹی کے اجلاس میں ماہِ شوال کی رویتِ ہلال کا اعلان کردیا گیا۔ جس کے بعد پشاور کی سرکاری زونل کمیٹی نے بھی مسجد قاسم جان کے طرف سے کیے گئے فیصلے کی تائید کا اعلان کردیا۔

غیر سرکاری کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ان کی کمیٹی کو مردان اور پشاور کے علاقوں سے رویتِ ہلال کی20 شہادتیں وصول ہوئی ہیں جس کے بعد کل بروز جمعہ عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صحافیوں کے اس استفسار پہ کہ یہ شہادتیں مرکزی کمیٹی کو کیوں وصول نہیں ہوئیں، مفتی پوپلزئی کا کہنا تھا کہ ان کی کمیٹی اور مرکزی کمیٹی کے فیصلوں کے درمیان فرق "یقین اور امکان" کا ہوتا ہے۔مفتی پوپلزئی کا کہنا تھا کہ اس سال پہلی مرتبہ چاند دیکھنے کی شہادت دو خواتین کی جانب سے بھی سامنے آئی ہے جسے کمیٹی نے قبول کرلیا۔

مفتی پوپلزئی کی صدارت میں قائم کمیٹی گزشتہ کئی برسوں سے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلوں کے برعکس رمضان اور شوال کے چاند نظر آنے کا فیصلہ اپنے تئیں کرتی آئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مرکزی کمیٹی کی جانب سے مفتی پوپلزئی کو اپنے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم انہوں نے اس بار بھی اپنا علیحدہ اجلاس بلانے کو ترجیح دی۔

ادھر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے سینئر وزیر بشیر بلور نے مسجد قاسم جان کی غیر سرکاری کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کل صوبہ بھر میں عید منانے کا سرکاری اعلان کردیا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت میں سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ مقامی کمیٹی نے شہادتوں کے بعد عید منانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی حکومت علماء کے اس فیصلہ کا احترام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے پیشِ نظر عید سادگی سے منائی جائے گی ۔

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے مقامی علماء کی جانب سے پہلے ہی جمعہ کے روز عید منائے جانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ جبکہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں مقیم بیشتر افغان پناہ گزین بھی افغانستان کے ساتھ عید مناتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور علامہ حامد سعید کاظمی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے جمعہ کے روز عید منانے کے فیصلے پہ برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو پنے فیصلے کے اعلان سے پہلے مرکزی حکومت کو اعتماد میں لیناچاہیے تھا۔ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے کئی رہائشی مرکزی کمیٹی کےفیصلے کے تحت ہفتہ ہی کو عید منائیں گے۔

حامد سعید کاظمی کی پیشن گوئی کے مطابق تحریک صوبہ ہزارہ کے سربراہ باباحیدر زمان نےصوبائی حکومت کے فیصلے سے اعلانِ لاتعلقی کرتے ہوئے ہفتہ کو عید منانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل ہزارہ ڈویژن کے تینوں اضلاع میں عید ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ منائی جائے گی۔

ادھربھارت میں شوال کا چاند دکھائی نہ دینے کے بعد مسلم علماء کی جانب سے عید ہفتہ کے رو ز منائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شوال کا چاند نظر نہ آنے کا اعلان جامع مسجد دہلی کے پیش امام سید احمد بخاری اور مجلسِ علماء حیدرآباد دکن کے سیکریٹری جنرل اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن سید قبول پاشا کی صدارت میں رویتِ ہلال کیلیے ہونے والے علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کے بعد کیا گیا۔

دوسری جانب پولیس کی جانب سے عید الفطر کے اعلان کے بعد بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے تمام علاقوں سے کرفیو اٹھالیا گیا ہے۔بھارتی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والی ایک خبر میں پولیس افسران کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سری نگرشہر ، اننت ناگ اور بیج بہاڑہ کے قصبوں سمیت جنوبی کشمیر کے تمام علاقوں سے کرفیو اٹھالیا گیا ہے۔ کشمیر کے علاقے بارہ مولا میں مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے چار افراد کی ہلاکت کے بعد کشمیر بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس کے بعد وادی کے نو اضلاع میں منگل کے روز سے کرفیو نافذ تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت بیشتر خلیجی ریاستوں میں جمعے کے روز عیدالفطر منائی جائے گی۔ مختلف خلیجی ریاستوں کی مذہبی کونسلز کی جانب سے بدھ کے روز شوال کا چاند نظر نہ آنے کے بعد جمعرات کو روزہ رکھنے اور جمعہ کو عید منانے کا علان کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG