رسائی کے لنکس

logo-print

ذرائع ابلاغ ذمہ دارانہ کردار ادا کریں: صدر ممنون حسین


سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد ضیاالدین نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کا کردار معاشرے پر نظر رکھنا ہوتا ہے اور اگر وہ کسی بھی فریق کی ہدایات کو من و عن قبول کر لے تو پھر اس کی غیرجانبداری ختم ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں اتوار کو پیغمبر اسلام حضرت محمد کا یوم ولادت مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا اور اس موقع پر ملک بھر میں تقاریب، ریلیاں اور محافل کا اہتمام کیا گیا۔

ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث کسی بھی ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور قانون نافذ کرنے والے ہزاروں اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کیا گیا تھا۔

میلاد النبی کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انتہا پسندی کو شکست دی جائے۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ذرائع ابلاغ کا کردار بہت اہم ہے اور اسے چاہیئے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور خطے کو کئی سالوں سے خون خرابے کا سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں میڈیا کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا کے بعض حلقوں کی طرف اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی مثالیں موجود ہیں جو کہ کسی بھی طرح معاشرے کے مفاد میں نہیں۔

"مثال کی طور پر کسی مقام پر دہشت گردی کے واقعے کی اطلاع سامنے آتی ہے اس سے پہلے کہ اس کی تصدیق ہو اسے پورے معاشرے تک پھیلا دیا جائے اور بعد میں اس کی تصدیق نہ ہو سکے تو اندازہ کیجئے کہ درمیانی عرصے میں ممکنہ متاثرین کی کتنی بڑی تعداد اضطراب کا شکار رہے گی اسی طرح بعض اوقات معمولی نوعیت کے واقعے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا جاتا ہے کہ معاشرے میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے"۔

گزشتہ ماہ پشاور کے ایک اسکول پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کو تیز کیا اور سیاسی قیادت نے اتفاق رائے سے ملک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک متفقہ ایکشن پلان تیار کر کے اس پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔

لیکن اس دوران حکومتی عہدیداروں کی طرف سے خاص طور پر ذرائع ابلاغ کو محتاط رویہ اپنانے کا بار بار تذکرہ دیکھنے میں آ چکا ہے۔

ایک روز قبل وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی کہا تھا کہ میڈیا دہشت گردوں کے پیغامات اور ان کی دھمکیوں کو نشر نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی ان کے بقول مدح سرائی کرنے والوں کے خلاف بھی حکومت کارروائی کرے گی۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد ضیاالدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ذرائع ابلاغ کا کردار معاشرے پر نظر رکھنا ہوتا ہے اور اگر وہ کسی بھی فریق کی ہدایات کو من و عن قبول کر لے تو پھر اس کی غیرجانبداری ختم ہو جاتی ہے۔

"میڈیا کا کام بہرحال نگران کا ہونا چاہیئے، اس کے لیے ٹی وی چینلز پر اخبارات میں اس شعبے کے ماہر لوگوں کو ذمہ داری نبھانی پڑے گی۔"

پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر اس سے پہلے بھی مختلف واقعات کی کوریج کرتے ہوئے غیر ذمہ داری کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں لیکن حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ وہ ملک میں ذرائع ابلاغ پر کسی بھی طرح کی قدغن نہیں لگانا چاہتی لیکن میڈیا کو خود اپنا قبلہ درست کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔

XS
SM
MD
LG