رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی: غیر ملکی امدادی ادارے کو اسپتال بند کرنے کا حکم

  • شمیم شاہد

کرم ایجنسی کے انتظامی ہیڈکوارٹر میں تعینات محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر اسپتال کو بند کرنے کا حکم دینے کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کی انتظامیہ نے ایک غیر ملکی امدادی ادارے کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں واقع اپنے اسپتال بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

قبائلی علاقوں کے انتظامی سیکریٹریٹ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' (ایم ایس ایف) کے کرم ایجنسی میں قائم دو اسپتالوں سے وابستہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اپنی سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسپتال انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر دونوں اسپتال بند کرکے عملے اور سامان کو علاقے سے نکال دیں۔

کرم ایجنسی کے انتظامی ہیڈکوارٹر پاڑا چنار میں تعینات محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر اسپتال کو بند کرنے کا حکم دینے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق سکیورٹی اداروں اور محکمہ داخلہ کے اجازت نامے (این او سی) کے بغیر کسی بھی ملکی یا غیر ملکی امدادی ادارے کو قبائلی علاقوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اسی بنیاد پر 'ایم ایس ایف' کو بھی قبائلی علاقے میں اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی رہنما ملک عطااللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا ہے کہ 'ایم ایس ایف' کے ایجنسی میں صدہ اور علی زئی کے مقامات پر دو اسپتال کام کر رہے ہیں جن سے علاقے کے عوام کو علاج کی بروقت سہولتیں دستیاب ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اسپتالوں کی بندش سے علاقے کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان اسپتالوں کی بندش سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور 'ایم ایس ایف' کو علاقے میں کام جاری رکھنے دے۔

فرانس کے امدادی ادارے 'ڈاکٹرز وِد آوٹ بارڈرز' نے 80 کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران ہجرت کرکے پاکستان آنے والے افغان مہاجرین کی مدد کے لیے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اسپتال اور کلینک قائم کیے تھے جن میں سے کئی جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جب پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی نے زور پکڑا تو اس وقت بھی 'ایم ایس ایف' نے ان علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔

'ایم ایس ایف' کے پاکستان کے علاوہ افغانستان کے مختلف جنگ زدہ علاقوں میں بھی اسپتال اور دوا خانے کام کر رہے ہیں۔

لگ بھگ ڈیڑھ سال قبل افغانستان کے صوبے قندوز کے مرکزی قصبے خان آباد میں 'ایم ایس ایف' کا ایک اسپتال طالبان جنگجووں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ کی زد میں آگیا تھا جس سے اسپتال کے عملے میں شامل کئی افراد وہاں زیرِ علاج مریض ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG