رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اسے محکمۂ زراعت چلاتا ہے'


سینیئر صحافی مرتضی سولنگی نے ٹویٹ کی کہ ’’لڑکی والوں‘‘ کی کامیاب نمائش کے بعد حاضر ہے ’’محکمہ زراعت‘‘ کی فخریہ پیشکش۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر آج کل محکمہ زراعت کا بہت چرچا ہے۔ ہوا یوں کہ ملتان سے ن لیگ کے امیدوار صوبائی اسمبلی رانا سراج اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ حساس اداروں کے اہل کاروں نے انہیں زدوکوب کیا ہے اور ن لیگ کی ٹکٹ چھوڑنے پر زور دیا ہے۔ اس پر میاں نواز شریف نے بھی لندن میں پریس سے بات کرتے ہوئے اس الزام کو دہرا دیا۔ مگر جلد ہی رانا سراج اقبال نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہیں دراصل غلط فہمی ہوئی تھی، ان کے گودام میں محکمہ زراعت کے اہل کاروں نے چھاپہ مارا تھا۔

اس پر سینیئر صحافی مرتضی سولنگی نے ٹویٹ کی کہ ’’لڑکی والوں‘‘ کی کامیاب نمائش کے بعد حاضر ہے ’’محکمہ زراعت‘‘ کی فخریہ پیشکش۔

صحافی مبشر زیدی نے کالم نگار وسعت اللہ خان سے منسوب کر کے ٹویٹ کیا کہ جب سے ملتان میں بدسلوکی کا نشانہ بننے والے لیگی امیدوار اقبال سراج نے تصیح کی ہے کہ انہیں کسی ایجنسی نے نہیں بلکہ محکمہ زراعت نے پیٹا، اس کے بعد مجھے بھی شبہ ہے کہ بلوچستان میں زہری حکومت واپڈا نے تبدیل کروائی، سنجرانی شاید اوگرا کی حمایت سے سینیٹ کے چیئرمین بنے۔

صحافی اعزاز سعید نے لقمہ دیا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اسے محکمہ زراعت چلاتا ہے۔

اس پر شاعر اور ایکٹوسٹ عاطف توقیر نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے رہے پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، اب پتا چلا کہ مطالعه پاکستان میں ٹھیک لکھا تھا۔ “پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔‘‘

​صحافی عمار مسعود نے کہا کہ میرے خیال میں محکمہ زراعت سے پنجاب میں الیکشن کی کیلکولیشن درست نہیں ہوئی۔ اب محکمے کے پاس دو ہی حل ہیں یا تو غریب کسانوں کی باتیں مان لیں یا پھر ساری فصل اجاڑ دیں۔

صحافی وسیم عباسی نے فارن آفس کے ایک افسر کا پیغام ٹویٹ کیا کہ محکمہ زراعت کے اختیارات دیکھ کر دل کر رہا ہے فارن آفس چھوڑ کر محکمہ زراعت جوائن کر لوں۔

صائمہ فاروق نے میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس کا ٹکڑا ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ملتان والے سراج صاحب نے کہا محکمہ زراعت والوں نے مارا ہے کہ ن لیگ کا ٹکٹ چھوڑ دو تو کل واپڈا، پی آئی اے اور سٹیٹ بینک والے بھی کہیں گے کہ ن لیگ کا ٹکٹ چھوڑو اور پی ٹی آئی یا پیپلزپارٹی میں آ جاؤ۔ یہ کتنی بری بات ہے۔ آپ سوچو ذرا!

​صحافی عدنان رندھاوا کہتے ہیں کہ سارا قصور رانا اقبال سراج کا ہے، چپ چاپ جیپ پر بیٹھ جاتا، نہ محکمہ زراعت والے ریڈ کرتے، نہ تھپڑ مارتے اور نہ ہی اسکے ملازموں کے کپڑے پھاڑتے۔

سوشل میڈیا یوزر سلمان سکندر کہتے ہیں کہ محکمہ زراعت کا خیال ہے ملک میں یہ وقت جمہوری فصل کے لئے مناسب نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG