رسائی کے لنکس

logo-print

'پری پول رگنگ' پر الیکشن کمیشن کو تمغہ دیا جائے: اختر مینگل


اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ’’یہ واحد الیکشن تھا جس میں نمائندوں کو ایک پرچی کے ذریعے نتائج ہاتھ میں تھما دیئے گئے‘‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ’’موجودہ پری پول رگنگ پر مبنی الیکشن کرانے پر الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کو ایوارڈ سے نوازنا چاہئے‘‘۔

جمعے کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ’میٹ دی پریس‘ سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ واحد الیکشن تھا جس میں نمائندوں کو ایک پرچی کے ذریعے نتائج ہاتھ میں تھما دیئے گئے‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’عسکریت اور گولی چلانے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ بلکہ ان میں اضافہ ہوگا۔ بلوچستان میں اداروں کی مداخلت بند کریں تو خود بخود وہاں کے حالات میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی گی۔ گوادر اور سی پیک کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا جا رہا ہے‘‘۔

سردار اختر مینگل کے بقول، ’’صرف 1970میں فری اینڈ فیئر الیکشن ہوئے تھے جبکہ موجودہ حالیہ انتخابات ’پری پول رگنگ‘ پر مبنی الیکشن تھا۔ عوام کی رائے کو مسترد کردیا گیا۔ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے عوام کے درمیان نفرتوں کی باڑ لگائی ہے۔ وہاں کی عوام کا دکھ درد محسوس نہیں کیا جاتا‘‘۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’’خدارا بلوچستان کو تجربہ گاہ بنانے کی عمل کو روکا جائے۔ سی پیک کے تحت گوادر کیلئے پچاس لاکھ ڈالر سے زائدرقم خرچ کی جا رہی ہے، گوادر میں اس وقت پانی اور بجلی موجود ہی نہیں۔ گوادر میں گھر کے باہر سے پانی کا گیلن چوری ہوتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’الیکشن مہم میں کسی نے بھی ہم سے روڈ، سکول، ہسپتال میں ادویات کی فریاد نہیں کی بلکہ اپنے پیاروں کی بازیابی کی فریاد کی، لوگ پریشان تھے کہ ووٹ دینے ک صورت میں ان کے پیاروں کو غائب کیے جانے کا خوف تھا۔ یہاں تو وزیر اعظم اور وزیروں کو غائب کیا گیا تو عوام لوگوں کی تحفظ کی یقین دہانی کیسے کر سکتے ہیں‘‘۔

سربراہ بی این پی مینگل کا کہنا تھا کہ ’’تمام پارٹیوں نے بلوچستان کو حقوق دینے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس میں اعلیٰ انصاف کے ادارے کے سامنے معاہدہ کیا مگر آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھاری مینڈیٹ لینے والی حکومتیں بھی ڈلیور نہیں کر پائیں۔ ان کے پاس تو مطلوبہ تعداد ہی نہیں۔ دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں۔ لگتا ہے سٹے کا کاروبار چل رہا ہے‘‘۔

حمایت کے حصول کے لیے، اختر مینگل سے مختلف سیاسی جماعتوں نے رابطہ کیا ہے۔ لیکن، انہوں نے اب تک کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ اختر مینگل ماضی میں بھی ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ عوام کے ساتھ مبینہ زیادتیوں پر احتجاج کرتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG