رسائی کے لنکس

logo-print

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنا ’بہت مشکل‘


الیکشن کمیشن کے مطابق بیرون ملک مقیم تصدیق شدہ پاکستانی ووٹروں کی تعداد 45 لاکھ ہے جن میں اکثریت سعودی عرب، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ہیں۔

آن لائن ووٹننگ کا نظام کے ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرنا ’’بہت مشکل‘‘ ہے۔

کمیشن میں وزارت خارجہ، داخلہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کوائف کا اندارج کرنے والے ادارے (نادرا) کے حکام سےبدھ کوبات چیت کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے صحافیوں کو بتایا کہا کہ جمعرات کو سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا جائے گا کہ اس بارے میں کیا ممکن ہے اور کیا نہیں۔

’’وقت کی انتہائی کمی کا سامنا ہے۔ ابھی تک ان ممالک سے کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر ہم نے وہاں پولنگ اسٹیشنوں کی نشاندہی کرنی اور عملہ تعینات کرنا ہے اور ہمارے پاس صرف 30 دن باقی ہیں۔ پھر کچھ ممالک سیاسی سرگرمیوں کی اجازت بھی نہیں دیتے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے مطابق بیرون ملک مقیم تصدیق شدہ پاکستانی ووٹروں کی تعداد 45 لاکھ ہے جن میں اکثریت سعودی عرب، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ہیں۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بیان کے بعد بظاہر ملک سے باہر مقیم پاکستانی شہری 11 مئی میں بحیثیت ووٹر حصہ نا لے سکیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت کسی اور ملک کی شہریت رکھنے والے پاکستانی کو پارلیمنٹ کا رکن ببنے کا حق نہیں۔

کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے دو سال سے کام ہو رہا ہے تاہم حال ہی میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ آن لائن ووٹننگ کا نظام تیار کر لیا گیا ہے۔

اشتیاق احمد خان کہتے ہیں ’’ہم سب چاہتے ہیں کہ وہ بھی اس عمل میں شریک ہوں۔ وہ شاید ہم سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ان کے دل ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں ان کا بڑا حصہ ہے۔‘‘

ادھر ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف درخواستیں جمع کرنے کا وقت آج ختم ہو رہا ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پنجاب کے ضلع قصور میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے جبکہ پنجاب ہی میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ پرویز مشرف کے چترال کے ایک حلقے سے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر بھی اعتراض اٹھائے گئے ہیں۔

الیکشن ٹرابیونلز نے بدھ سے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں پراعتراضات کی سماعت بھی شروع کر دی ہیں اور ایک ٹرابیونل نے معروف کالم نگار اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری کے فیصلوں کو رد کر دیا۔ گزشتہ ہفتے ایک ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات یہ کہہ کر مسترد کر دیے کہ ان کی تحریریں نظریہ پاکستان سے متصادم ہیں۔

ٹرابیونل کی سماعت کے بعد ایاز امیر کے وکیل سلمان اکرم راجا نے ریٹرنگ افسران کے رویے کو ان تاریک نظریات کا عکاس قرار دیا جو ان کے بقول پاکستانی معاشرے میں آزادی خیال اور اظہار پر قدغن چاہتا ہے۔

’’کون کتنا اچھا مسلمان ہے اس کا کیا پیمانہ ہے ہمارے پاس؟ اگر ریٹرننگ افسران اس بات پر کاغذات مسترد کریں گے تو ایک کا خیال دوسرے ریٹرننگ افسر سے مختلف ہوسکتا ہے اس لیے یہ بات بڑی واضح ہو کر آئی ہے کہ آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے خلاف کیچڑ اچھالنے کا عمل ختم ہو۔‘‘

ریٹرننگ افسران کے امیدواروں سے مذہب اور غیر ضروری سوالات پوچھنے پر سیاست دانوں، انسانی حقوق اور انتخابات کی نگرانی کرنے والی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا جس پر ابتدائی طور پر تردد کا مظاہرہ کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے عمل کے اختتام سے صرف ایک روز قبل ریٹرننگ افسران کو ایسا کرنے سے اجتناب کی ہدایت کی۔

الیکشن کمیشن کے اعدادو شمار کے مطابق مجموعی طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے موصول ہونے والے 27 ہزار 75 کاغذات نامزدگی میں سے تقریباً 4 ہزار مسترد کئے گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG