رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کرے: حکومت


وزیر داخلہ کے مطابق مجوزہ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں تحقیقات کے علاوہ انتخابی عمل میں اصلاحات تجویز کرنا بھی شامل ہو۔ ان کا کہنا ہے کمیشن انتخابات شفاف اور آزادانہ طریقے سے کروانے میں ’’مکمل طور پر ناکام‘‘ ہوا ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے تین ماہ گزرنے کے بعد حکومت نے ان میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کے تحت کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔

جمعرات کو پارلیمان میں یہ تجویز پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ عوام کے سامنے حقائق کا لانا ضروری ہے اور اس غیر قانونی طریقے سے منتخب ہونے والے قانون ساز کو نا اہل قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ کمیٹی کو سابق نگران وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو تحقیقات سے متعلق طلب کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ کے مطابق مجوزہ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں تحقیقات کے علاوہ انتخابی عمل میں اصلاحات تجویز کرنا بھی شامل ہو۔ ان کا کہنا ہے کمیشن انتخابات شفاف اور آزادانہ طریقے سے کروانے میں ’’مکمل طور پر ناکام‘‘ ہوا ہے۔

حکومت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کے تحت مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی تجویز ایک ایسے وقت میں آئی جب آئندہ ہفتے ملک کے 42 حلقوں میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے حال ہی میں صدارتی انتخابات سے متعلق بھی الیکشن کمیشن پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔

چند سیاسی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی طرح کمیشن کے دیگر چاروں ممبران سے استعفے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات سے متعلق کمیٹی کی تشکیل بے سود ہوگی۔

’’دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ہوا کہ جو لوگ ایک عمل کے تحت منتخب ہوئے وہ انکوائری کریں کہ دھاندلی کہاں ہوئی ہے اور کہاں نہیں۔ اعتراضات تو بہت ساری جماعتوں کو ہیں۔ کیا ان کے نمائندے متفق ہو سکیں گے کہ اس پر؟ اس میں تاخیر کے لیے یہ کمٹی بنائی جارہی ہو ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور قانون ساز شفقت محمود کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق مجوزہ کمیٹی اہم کردار ادا کرسکتی ہے مگر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے بارے میں ان کے بقول اس کی افادیت کو انحصار حکومتی رویے پر ہے۔

’’اگر اس کا مقصد ایشو کو کمیٹی میں دفن کرنا یا اسے کِل کر دینا ہے تو پھر تو (کمیٹی بنانے کا) کوئی فائدہ نا ہوگا۔ ہم نے آئندہ انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے اس کا مطالبہ کیا ہے اگر اس جذبے سے ہوگا تو پھر پیش رفت بھی ہوگی اور بہتری بھی آئے گی۔‘‘

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے مجوزہ کمیٹی کے لیے پارلیمان میں تمام سیاسی جماعتوں سے اراکین کے نام طلب کیے ہیں اور جمعہ کو ان کی صدارت میں ایک اجلاس میں کمیٹی کی تشکیل متوقع ہے۔
XS
SM
MD
LG