رسائی کے لنکس

logo-print

’آصف زرداری کو صدر بننے سے کوئی دلچسپی نہیں‘


فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر راہنما سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری آئندہ حکومت میں صدر کے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سب کو حیران کرتے ہوئے پنجاب میں بھی نشستیں حاصل کرے گی اور مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوجی قیادت کی بدولت امریکہ یا مغرب کا پاکستان کی سیاست میں اب کردار نظر نہیں آتا۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے سینیئر راہنما رحمان ملک نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے اپنے جائزوں اور تجزیہ کاروں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ آئندہ کسی جماعت کو واضح یا سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہو گی۔ اس لحاظ سے ان کے بقول یہ بالکل صاف نظر آ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی جماعت حکومت نہیں بنا سکے گی۔ اس سوال پر کہ پیپلز پارٹی اس تعاون کے بدلے کیا سابق صدر آصف علی زرداری کو ایک بار پھر صدر بنانا چاہے گی، رحمان ملک نے کہا کہ ’’ صدر زرداری بالکل صدر بننے کے موڈ میں نہیں ہیں‘‘۔ انہوں نے اس موقع پر باور کرایا کہ وہ پارٹی کے کارکن ہیں اور فیصلہ سازی کا بھی حصہ ہیں، اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں بتا سکتے کہ صدر زرداری کو دوبارہ صدر کے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ایک نجی ٹیلی وژن نے دو روز قبل اپنے ’’ان ہاؤس ‘‘ مبصرین کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ آصف علی زرداری کو عہدہ صدارت دینے کے لیے مختلف چینلز متحرک ہیں اور تقریباً تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ پیپلز پارٹی چھوڑ کر واپس گئے ہیں، عوام ان کو پسند نہیں کر رہے۔ اور 25 جولائی کے بعد وہ دوبارہ پارٹی میں واپس آ جائیں گے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ جس طرح سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے حوالے سے ان کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی تھی، وہ اب بھی پرامید ہیں کہ وہ 25 جولائی کے انتخابات کے بعد وسط اگست میں اپنے کسی امیدوار کی اہم آفس کے لیے فتح کے بعد عمران خان کا شکریہ ادا کر رہے ہوں گے۔ دوسری طرف عمران خان اپنے حالیہ انٹرویوز میں واضح طور پر اس امکان کو مسترد کر چکے ہیں کہ وہ آصف علی زرداری کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے۔

سینیٹر رحمان ملک نے پاکستان کے انتخابات میں بیرونی طاقتوں کے کسی کردار کی بھی تردید کی

’’ کبھی امریکہ پاکستان کی سیاست میں اہم ہوتا ہوگا، اب میں گار نٹی سے کہتا ہوں کہ ابھی مغرب کا پاکستان کی سیاست میں اب کوئی کردار نہیں ہے، اور اس کا سہرا پاکستان کی فوجی قیادت کو جاتا ہے جنہوں نے امریکہ کی اس معاملے میں مداخلت کو بالکل روک دیا ہے اور کوئی ’’شٹلنگ‘‘ بھی نہیں ہو ر ہی‘‘

انہوں نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی نے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس سے قبل تجزیہ کار پروفیسر ہما بقائی نے اپنے تجزیے میں کہا کہ پیپلز پارٹی کو انتخابات 2018 میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب سے تقریباً مکمل خاتمے کے بعد اندرون سندھ بھی ان کو گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس چیلنج کر رہا ہے اور جو خیال تھا کہ شاید ایم کیو ایم کی قیادت کے بحران سے پیدا ہونے والے خلا میں ، پیپلز پارٹی کراچی سے بھی سیٹیں نکالنے میں کامیاب ہو گی، گزشتہ روز لیاری میں بلاول بھٹو کو آڑے ہاتھوں لیے جانے کے بعد یہاں بھی امکانات محدود ہو رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG