رسائی کے لنکس

مجوزہ انتخابی اصلاحات آئندہ ماہ پارلیمان میں پیش کیے جانے کی توقع


الیکشن کمشین آف پاکستان

تاہم اب بھی بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے ان پر تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان میں انتخابات منعقد کروانے والے ادارے الیکشن کمشین کو انتظامی اور مالیاتی طور پر خود مختار بنانے اور پارلیمانی کمیٹی کی منظور کردہ سفارشات کا منگل کو وزیراعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ نے جائزہ لیا اور بتایا گیا ہے کہ اس کی مزید نوک پلک درست کر کے ممکنہ طور پر اسے آئندہ ماہ قانون سازی کے لیے ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔

2013ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے شکایات کے بعد وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا تھا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائیں۔ ایک طویل عرصے کے انتظار کے بعد گزشتہ ماہ ہی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے یہ متفقہ سفارشات مرتب کی گئی تھیں۔

تاہم اب بھی بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے ان پر تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔

مجوزہ اصلاحات میں بے ضابطگیوں میں ملوث الیکشن کمیشن کے حکام اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف سزا اور جرمانے کے علاوہ انتخابات سے پہلے بے ضابطگیوں اور ان کے ازالے سے متعلق شکایات کے اندراج کا نظام متعارف کروانے کا بتایا گیا ہے۔

اصلاحات کے تحت کسی بھی شہری کا نام کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے اجرا کے ساتھ ہی انتخابی فہرست میں درج ہو جائے۔

ووٹوں کی گنتی اور نتائج پولنگ اسٹیشن پر ہی مرتب کیے جائیں گے جن کی تفصیل پر مشتمل فارم 14 کو موبائل فون ایپلیکشن کے ذریعے ریٹرننگ افسران اور الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے گا۔

مزید برآں اگر فتح اور شکست میں پانچ فیصد یا دس ہزار سے کم فرق ہو گا تو ہارنے والا امیدوار اسی وقت دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر سکتا ہے جس پر عمل لازمی ہوگا۔

معذور افراد کے لیے پوسٹل بیلٹ کے علاوہ خواتین ووٹرز کی کم ازکم شرح دس فیصد یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات میں اب بھی بعض امور پر ان کے تحفظات ہیں جس پر ان کی جماعت حکومت سے بات چیت جاری رکھے گی۔

"الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے اس پر حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی پھر بائیومیٹرک سسٹم ہے اس سے سو فیصد نہ سہی 70 فیصد تک آپ جعلی ووٹوں سے بچ سکتے ہیں تو اس طرح کی اور بھی چیزیں ہیں۔۔۔عبوری حکومتوں کو کس طرح سے نامزد کیا جاتا ہے وہ بہت اہم ہے کیونکہ انھوں نے ہی انتخابات کروا کے اقتدار منتقل کرنا ہوتا ہے۔"

بعض سماجی حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ انتخابی اصلاحات میں خاص طور پر معلومات تک رسائی سے متعلق شامل کی گئی شق ذرائع ابلاغ کے لیے قدغن کے مترادف ہے۔

انتخابی اصلاحات میں کہا گیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کا کوئی عہدیدار ایسی معلومات ذرائع ابلاغ کے کسی نمائندے کو دیتا ہے جس کا کہ وہ مجاز نہیں تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر تیار کی ہیں لیکن اب بھی اگر کسی طرف سے تحفظات یا سفارشات سامنے آتی ہیں تو ان پر بھی غور کیا جائے گا۔

آئین کے مطابق پاکستان میں آئندہ عام انتخابات 2018ء میں ہونے ہیں۔

XS
SM
MD
LG