رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اظہار رائے کی آزادی کے لیے فوری اقدامات کرے، ہیومین رائٹس واچ


ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا کہ ’’پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنا چاہیئے مگر اپنے شہریوں کو بنیادی آزادیوں اور قانون کے مطابق کارروائی کے حق سے محروم کرنا غیر قانونی اور انتہائی گمراہ کن حکمت عملی ہے۔‘‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2015 میں صحافیوں اور سرگرم کارکنوں کو عسکریت پسند گروہوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کی جانب سے دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا رہا ہے۔

بدھ کو انسانی حقوق کے متعلق اپنی عالمی رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے تنظیم نے کہا کہ گزشتہ سال طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں نے میڈیا کے دفاتر اور صحافیوں کو نشانہ بنایا۔

دوسری طرف رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انسداد دہشت گری کے آپریشنز کے دوران صحافیوں کو مبینہ طور سکیورٹی فورسز کی طرف سے کی گئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹنگ یا اس پر تنقید کرنے سے بھی روکا گیا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ ہی اسلام آباد میں نجی چینل ’اے آر وائے‘ نیوز کے دفتر پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا جس میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔

اس سے قبل دسمبر میں لاہور میں موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن ’دن نیوز‘ کے دفتر پر دستی بم پھینکا۔ اس حملے میں چار افراد زخمی ہوئے۔ نومبر میں فیصل آباد میں نجی ٹی وی چینل "دنیا نیوز" کے دفتر پر بھی ایسا ہی ایک حملہ ہوا تھا جس میں ادارے کے تین ارکان زخمی ہوگئے تھے۔

ایک اور ٹی وی چینل ڈان نیوز سے وابستہ ایک شخص اس وقت زخمی ہو گیا جب نامعلوم افراد نے چینل کی ڈیجیٹل سیٹلائیٹ گاڑی کو کراچی میں حملے کا نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال پاکستان میں متعدد صحافیوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔

تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صرف صحافیوں کو ہی دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔

’’پاکستانی معاشرے کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جسے نشانہ نہیں بنایا گیا۔ یہ لوگ آسان اہداف کو نشانہ بناتے ہیں اور آسان اہداف میں بچوں کے سکول بھی ہیں، ہماری مساجد اور کوئی چرچ اور دوسری عبادگاہیں بھی ہیں، ان میں صحافی بھی ہیں کیونکہ صحافی جگہ جگہ اپنا کام کرتے ہیں۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ایسے اقدامات کیے گئے جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ اس حوالے سے فوجی عدالتوں کے قیام اور ملک میں سزائے موت پر عائد پابندی کے خاتمے کا بھی ذکر کیا گیا جس کے بعد اب تک 327 مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جا چکی ہے۔

تاہم طلال چوہدری نے کہا کہ یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ ان کی وجہ سے انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

’’جس قسم کے لوگوں سے ہمارا اس وقت مقابلہ ہے وہ نہ تو دل رکھتے ہیں نہ دماغ رکھتے ہیں تو ان حالات میں ہم نے جو انسداد دہشت گردی کے قوانین بنائے ہیں، تحفظ پاکستان آرڈیننس بنایا ہے، فوجی عدالتیں بنائی گئی ہیں، یہ تمام چیزیں غیر معمولی حالت میں غیر معمولی لوگوں (سے نمٹنے) کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس وجہ سے شاید یہ محسوس ہوتا ہو کہ پاکستان میں انسانی حقوق کا کئی جگہ پر خیال نہیں رکھا جا رہا۔‘‘

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ ملک میں آپریشن ضرب عضب اور انسداد دہشت گردی کا قومی لائحہ عمل نافذ کرنے سے حالات میں پہلے سے بہت بہتری آئی ہے۔

تاہم ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا کہ حکومت ملک میں اظہار رائے اور وابستگی کی آزادی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنا چاہیئے مگر اپنے شہریوں کو بنیادی آزادیوں اور قانون کے مطابق کارروائی کے حق سے محروم کرنا غیر قانونی اور انتہائی گمراہ کن حکمت عملی ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG