رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: معذور قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد ملتوی


جیل کے قواعدوضوابط ہیں جن کے تحت سزائے موت کے مجرم کا تختہ دار پر کھڑا ہونا ضروری ہے لیکن چونکہ مجرم عبدالباسط کا نچلا دھڑ مفلوج ہے لہذا مزید قانونی رائے حاصل کیے جانے تک اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان میں قتل کے ایک مجرم کی سزائے موت پر یہ کہہ کر عملدرآمد ملتوی کر دیا گیا ہے کہ جسمانی طور پر معذور مجرم کو تختہ دار پر لٹکائے جانے سے متعلق جیل کے قواعد و ضوابط واضح نہیں ہیں۔

43 سالہ عبدالباسط کو 2009ء میں قتل کے ایک مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن قید کے دوران اسے تپ دق کا مرض لاحق ہوا اور پھر فالج کے حملے کی وجہ سے اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا تھا۔

عدالت نے اسے تختہ دار پر لٹکانے کے لیے 22 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں ایک معذور مجرم کو پھانسی دینے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے سزا پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کرتی آ رہی تھیں۔

عبدالباسط کو فیصل آباد کی جیل میں پھانسی دی جانی تھی لیکن اسی شہر کی ایک ذیلی عدالت کے مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ معذور مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد سے متعلق حکومت سے رائے طلب کی جائے گی۔

مروجہ قانون کے مطابق سزائے موت کے مجرم کا تختہ دار پر کھڑا ہونا ضروری ہے لیکن چونکہ مجرم عبدالباسط کا نچلا دھڑ مفلوج ہے لہذا مزید قانونی رائے حاصل کیے جانے تک اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

پیر کو انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان کی حکومت سے اس سزا کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ انسانی حقوق کمیشن بھی ایسا ہی مطالبہ کر چکا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ عبدالباسط کی سزائے موت پر عملدرآمد کتنے دنوں کے لیے موخر کیا گیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد چھ سال سے پھانسیوں پر عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 230 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی ملکی و غیر ملکی تنظیمیں پاکستانی حکومت سے اس پابندی کو دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں قانون کے مطابق دی گئی سزا پر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG