رسائی کے لنکس

logo-print

66 فیصد پاکستانی انتہا پسندی کو سنگین خطرہ سمجھتے ہیں: رپورٹ


حقوق انسانی کی سرگرم کارکن خاور ممتاز کا کہنا تھا کہ انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے زیادہ تر لوگ ان کے خلاف اظہار رائے سے کتراتے ہے۔

امریکہ کے ایک غیر جانبدار ادارے ’’پیو ریسرچ سنٹر‘‘ کی حال ہی میں جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ 66 فیصد آبادی مذہبی انتہا پسندی کو ملک کے لیے سنگین خطرہ سمجھتی ہے اور اس طرح ایک بڑی تعداد طالبان شدت پسندوں کی حمایت نہیں کرتی۔

سروے میں حصہ لینے والے صرف 8 فیصد افراد نے عسکریت پسندوں کے حق میں رائے دی جبکہ 33 فیصد نے رائے دینے سے اجتناب کیا۔

حقوق انسانی کی سرگرم کارکن خاور ممتاز نے وائس آف امریکہ سے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے زیادہ تر عوام ان کے خلاف اظہار رائے سے کتراتے ہیں۔

’’وہ انتخابات میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ مذہبی جنونیت پھیلانے والے ساتھ ساتھ نفرت و منفی سوچ پرزور دیتے ہیں کہ لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں اور کیونکہ مذہب کے نام پر سب ہورہا ہوتا ہے تو کوئی نہیں چاہتا کہ وہ غیر مذہب کہلائے۔‘‘

امریکہ کے ادارے کی رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی جب نواز شریف انتظامیہ اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد گزشتہ ماہ کے وسط میں فوج نے القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے گڑھ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا۔

فوج کے ترجمان کے مطابق نا صرف شمالی وزیرستان بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں ایک مربوط طریقہ کار کے ذریعے شدت پسندوں کی آماجگاہوں کو ختم کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان میں خود کش حملوں سے متعلق آراء میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور صرف تین فیصد لوگوں کی رائے میں کسی مقصد کے حصول کے لیے ایسے حملے کرنا جائز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے یہ شرح 41 فیصد تھی۔

حقوق انسانی کی کارکن خاور ممتاز کا کہنا ہے کہ ریاست کی طرف سے انتہا پسندی کے خلاف موثر اقدامات نا کرنے کی وجہ سے ایسی قوتوں کو تقویت حاصل ہوئی۔

’’اسمبلی میں کتنی کم تعداد میں مذہبی جماعتیں ہوتی ہیں اور مجموعی طور پر وہ کسی بھی ترقی پسندانہ سوچ کے راستے میں حائل بھی ہوتی ہیں۔۔‘‘

شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت 40 ہزار سے زائد پاکستانی مارے جا چکے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق مذہبی و قدامت پسند جماعتوں کی طر ف اس جنگ سے متعلق پیدا کردہ ابہام نے نا صرف عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ملک میں مذہبی انتہا پسندانہ رجحان میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG