رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایک روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر پابندی لگا دی تھی لیکن جمعرات کو اس اقدام کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قابل اعتراض مواد کی اشاعت میں اضافے کے پیش نظر فوری طور پر ویڈیو شیئرینگ ویب سائٹ ”یو ٹیوب “ کو بھی بند کر دیں ۔

متعلقہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے نے مذہبی عقائد کی بے حرمتی کرنے والے مواد کے خلاف یو ٹیوب اور فیس بک پر دستیاب تمام چینلز اوررابطوں کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کا ہرممکن راستہ اختیار کیا تاکہ اس رحجان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ لیکن قابل اعتراض مواد کی اشاعت میں اضافہ ہوتا گیا جس کے بعد حکومت نے ان دونوں ویب سائٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر توہین آمیز مواد کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں عبدالباسط نے کہا کہ آزادی اظہار کے لبادے میں توہین آمیز مواد کی اشاعت کا فروغ کسی طورقابل قبول نہیں اور اس طرح کے اقدام سے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

اُنھوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پرغورکریں کیوں کہ ترجمان کے بقول مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرکے اور اُنھیں پس پشت ڈال کر اس قسم کی حرکات کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں۔

یوٹیوب اور فیس بک کے پاکستان میں صارفین نے تصدیق کی ہے کہ اُنھیں اِن دونوں ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

اسلام آباد میں ایک نجی کمپنی ’’نیا ٹیل ‘‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وہاج سِراج نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس وقت پاکستان میں سماجی رابطے کے لیے 35 لاکھ لوگ ’’فیس بُک‘‘ اوراتنی ہی تعداد میں ’’یوٹیوب‘‘کی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’فیس بُک‘‘ استعمال کرنے والوں کی اکثریت نے حکومت پاکستان کے فیصلے کی حمایت کی ہے جب کہ ’’یوٹیوب‘‘ استعمال کرنے والوں نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ’’کچھ کا خیال ہے کہ حکومت کا اقدام قابل ستائش ہے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ یوٹیوب تک محدود رسائی دینے سے بھی مقاصد کو حصول ممکن ہے۔‘‘

انٹرنیٹ کمپنیوں کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی 25 فیصد ٹریفک کا انحصار بھی ان ہی دو ویب سائٹس کے استعمال پر ہے۔

شعبہ تعلیم سے وابستہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ جدیدٹیکنالوجی کے اس دور میں انھی چینلز کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس معاملے پر اپنا موقف بیان کرنا چاہیئے۔

دریں اثنا ملک کے مختلف حصوں میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں حصہ لینے والے افراد دونوں ویب سائٹس پر مکمل پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG