رسائی کے لنکس

شدت پسندی پر قابو پانے اور چینی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کا چیلنج


فائل

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی، احسن اقبال نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ ’سی پیک‘ منصوبہ 2030ء تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے

پاکستان گوادر کی اپنی بندرگاہ کو وسعت دے کر چین سے ملانے کے منصوبے کو روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ملک کے غریب ترین صوبے، بلوچستان میں معیشت کو بڑھاوا دینے کا موقعہ قرار دے رہا ہے۔

اس کی تعمیر اور اس کے کام کرنے کا دارومدار حکومت کی جانب سے علیحدگی پسندی کی بغاوت اور شدت پسندوں کے مختلف گروہوں سے نبردآزما ہونے پر ہے، جو غربت کو بہانہ بنا کر باغیانہ جذبات بھڑکاتے ہیں۔

حسن عسکری، ایک معروف سکیورٹی اور دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ اُن سے پوچھا گیا اگر پاکستان بلوچستان میں شدت پسندی کو کنٹرول نہیں کر پاتا تو حکومت متوقع نتائج کیسے حاصل کر سکے گی، جس کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

چین پاکستان اکانامک کوریڈور (سی پی اِی سی) دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس پر پہلے ہی کام ہو رہا ہے۔ اس کے ذریعے، چین کے سنکیانگ کے شمال مغربی علاقے کو جنوب مغرب میں واقع گوادر کے گہرے پانی کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا، جس کے لیے سڑکوں، ریلوے، مواصلات اور توانائی کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

اس طرح، چین کو خیلج فارس تک پہنچنے کا نیا مختصر راستہ میسر آئے گا؛ جب کہ پاکستان کو دوسری اہم بندرگاہ فراہم ہو جائے گی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی، احسن اقبال نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ ’سی پیک‘ منصوبہ 2030ء تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف دونوں روایتی اتحادیوں کے تعلقات کو فروغ ملے گا، بلکہ اس کے نتیجے میں تقریباً 20 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جن میں سے زیادہ تر بلوچستان میں ہوں گے۔

تاہم، متعدد سکیورٹی اور دفاعی تجزیہ کار تذبذب کا شکار ہیں کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر حکومت کی، ’سی پیک‘ سے جڑی توقعات پوری نہیں ہو پائیں گی۔

باغی اور قوم پرست ’’کمزور اہداف‘‘ کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں سے آنے والے مزدور نشانہ بن رہے ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ بلوچستان میں صورتِ حال کشیدہ ہے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس سے قبل مئی میں، نامعلوم حملہ آوروں نے گوادر میں سڑک کی تعمیر کرنے والے مزدوروں پر فائر کھول دیا تھا، جس واقعے میں 10 مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے ایک روز قبل، داعش کے ایک خود کش بم حملہ آور نے بلوچستان میں اپنے آپ کو اُڑا دیا تھا، جس واقعے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کا ہدف وہ قافلہ تھا جس میں معروف سیاست دان، عبد الغفور حیدری شامل تھے۔

حالیہ دنوں صوبائی دارالحکومت، کوئٹہ میں سکیورٹی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں حالیہ پُرتشدد کارروائیوں پر حکومت نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا، جس میں علاقے میں چینی سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کی حکمتِ عملی کا اعلان کیا گیا تھا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت سلامتی کو لاحق تشویش کے بارے میں پورے طور پر آگاہ ہے اور اس معاملے پر ٹھوس اقدام کر رہی ہے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان فوج کی طرف سے بلوچستان میں 9000 اہل کاروں پر مشتمل نفری تعینات کی گئی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG