رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی سے معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان ہوا: پاکستانی عہدیدار


مثبت امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ نقصان بتدریج کم ہوا۔ اقتصادی سروے کے مطابق جولائی 2014ء سے مارچ 2015ء میں یہ نقصان تقریباً 458 ارب روپے رہا جب کہ گزشتہ مالی سال میں لگ بھگ 682 ارب روپے تھا۔

پاکستان کو دہشت گردی کے باعث ایک دہائی سے زائد عرصے میں کھربوں روپے کے مالی نقصان ہو چکا ہے لیکن مثبت امر یہ ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں اس ضمن میں ہونے والا نقصان کی شرح میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ بات وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی سروے رپورٹ کے اجراء کے موقع پر بتائی۔

ان کے بقول گزشتہ 14 سالوں میں ملکی معیشت کو بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 107 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں سے متواتر اس کی شرح میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ ملک میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیاں ہیں۔

اقتصادی سروے کے مطابق جولائی 2014ء سے مارچ 2015ء میں یہ نقصان تقریباً 458 ارب روپے رہا جب کہ گزشتہ مالی سال میں لگ بھگ 682 ارب روپے تھا۔

پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا سامنا رہا ہے اور حکام کے بقول اس دوران ملک میں 50 ہزار سے زائد شہریوں کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

فوج نے ایک سال قبل شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے شمالی وزیرستان میں بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس کے بعد ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں آپریشن کے علاوہ ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG