رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا میں کشتی ڈوبنے کے بعد انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن


پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب گزشتہ ہفتے تارکینِ وطن کی ڈوبنے والی کشتی میں 33 پاکستانی شہری سوار تھے جن میں سے اب تک 17 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے

لیبیا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی تارکینِ وطن سے بھری کشتی میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ نے انسانی اسمگلروں کے خلاف نیا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک عہدیدار ساجد اکرام نے پیر کو وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں بتایا کہ اب تک پانچ مبینہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے چار کو گوجرانوالہ جب کہ ایک کو فیصل آباد سے حراست میں لیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

اُدھر پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب گزشتہ ہفتے تارکینِ وطن کی ڈوبنے والی کشتی میں 33 پاکستانی شہری سوار تھے جن میں سے اب تک 17 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہونے والے 17 پاکستانی شہریوں کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں واقع پاکستانی سفارت خانہ اس ضمن میں مسلسل کام کر رہا ہے اور اُن پاکستانیوں سے متعلق بھی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

اب تک ہلاک ہونے والے جن پاکستانیوں کی شناخت ہوئی ہے اُن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے۔

تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طریقے سے لیبیا سے بحیرۂ روم عبور کر کے اٹلی اور پھر وہاں سے یورپ کے دیگر ملکوں کو جانے کی کوشش کرتی ہے جن میں سے بہت سے اپنی منزل پر پہنچے سے قبل ہی جانیں گنوا دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری بہتر روزگار کے لیے انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن ضیا اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ روکنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

’’جہاں یہ تارکین وطن جاتے ہیں، جن ممالک سے گزر کر جاتے ہیں اور اُن کے آبائی وطن جب تک مل کر انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کریں گے اُس وقت تک یہ ختم نہیں ہو سکتا۔‘‘

’ایف آئی اے‘ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے والوں میں سے بڑی تعداد کا تعلق صوبۂ پنجاب کے گوجرانوالہ ڈویژن سے ہے اور اُن میں سے بیشتر نواجون ہوتے ہیں۔

دسمبر 2017ء میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے تربت میں دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں 20 افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے ان تمام افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا جو انسانی اسمگلروں کے ذریعے بلوچستان سے ہوتے ہوئے ایران اور پھر وہاں سے یورپ جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن یہ افراد بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح تنظیم کے شدت پسندوں کی فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

اس واقعے کا پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے بھی نوٹس لیا تھا جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انسانی اسمگلروں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا تھا جس میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

انسانی اسمگلنگ کے خلاف سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے واقعے بعد اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک منظم، طویل المدت اور موثر حکمت عملی کا فقدان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG